بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی رقم سودی بنک کے (P L S) اکاؤنٹ میں رکھنا


سوال

1۔ ہماری مسجد کی رقم کو ABL کے PLS اکاؤنٹ میں رکھا گیا ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

 2۔اگر جائز نہیں توکیا کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھ سکتے ہیں؟

3۔اگر یہ بھی جائز نہیں تو کسی آدمی کے پاس بطور امانت یا قرض رکھ کر بوقت ضرورت واپس لے سکتے ہیں؟ برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں۔

جواب

          سود قرآن و حدیث کی صریح نصوص میں حرام قرار دیا گیا ہے، اس لیے سود لینا،دینا یا اس میں کسی قسم کی معاونت کرنا شرعاً حرام ہے۔

        1۔ صورتِ مسئولہ کے مطابق چونکہ سودی بنکوں کے  PLS اکاؤنٹ سے ملنے والا منافع سود کے حکم میں ہے اس لیے کسی بھی سودی بنک کے PLS اکاؤنٹ میں رقم رکھوانا شرعاً جائز نہیں۔              

2        ،3۔ مسجد کی رقم کو محفوظ رکھنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کو کسی معتمد اور امانت دار شخص کے پاس بطور امانت رکھا جائے، تاہم اگر کوئی معتمد اور امین شخص موجودنہ ہو تواس کو کسی اسلامی بنک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھا جائے،البتہ جہاں کہیں اسلامی بنک کا برانچ موجود نہ ہو تو اس صورت میں روایتی بنک کے لاکر میں محفوظ کرلیا جائے اور اگر یہ صورت بھی ممکن نہ ہو تو پھر مجبوری کی بنا پر کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھنے کی گنجائش ہے۔

 

قال الله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ (النساء:278)

عن ابن مسعود قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وشاهدیه وكاتبه. (سنن الترمذي، كتاب البيوع، باب ما جاء في أكل الربوا، رقم الحديث:1206، ج:1ص229)

 


فتویٰ نمبر : 4738/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں