بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نماز جنازہ سے پہلے میت کا چہرہ دکھانا


سوال

ہمارے ہاں نماز جنازہ سے پہلے میت کا چہرہ سب کو دکھایا جاتا ہے،شرعا یہ کیسا ہے؟اکثر چہرہ دیکھنے کے بعد سننے میں آتا ہے کہ اس کا منہ کھلا تھا یا آنکھیں کھلی رہ گئی تھی جو کہ ایک مسلمان کے لیے  عیب کی بات ہے۔بعض لوگ کہتے ہے کہ میت کا آخری دیدار مستحب ہے آپﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہھم سے ثابت ہے۔

جواب

          واضح رہے کہ میت کا چہرہ دیکھنا چاہے نماز جنازہ سے پہلے ہو یا اس کے بعد ہو جائز ہے ،لیکن لازم اور ضروری نہیں ۔البتہ جب اس کے ساتھ  بدعات  ورسومات شامل ہوجائیں یا اس کی وجہ سے کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی ہونے لگے یا اسے باقاعدہ  رسم بنا کر باعث ِثواب سمجھا جائےتو پھر شرعا ممنوع ہے۔

        صورت  مسئولہ میں نماز جنازہ سے پہلے میت کا چہرہ دکھانے میں اگر کسی بدعت یا غیر شرعی کام کا ارتکاب لازم نہ آئے تو جائز ہے،لیکن کوئی حکم شرعی نہیں کہ جس کو سنت یا مستحب قرار دیا جائے ۔تاہم موت کی شدت یا دیگر اسباب کی وجہ سے اگر میت کے چہرے میں کوئی نامناسب  تبدیلی آچکی ہو تو پھر اس کا دکھانا مناسب نہیں۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أسرعوا بالجنازة، فإن تك صالحة فخير تقدمونها، وإن يك سوى ذلك، فشر تضعونه عن رقابكم»۔(ٍصحيح البخاري،باب السرعة بالجنازة،ج1،ص352)

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُدْرِجُوهُ فِي أَكْفَانِهِ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَأَتَاهُ، فَانْكَبَّ عَلَيْهِ، وَبَكَى ۔(سنن ابن ماجة،كتاب الجنائز،باب ما جاء في النظرإلى الميت إذا أدرج في أكفانه،ج1،ص473)

وفي اليتيمة:سألت يوسف بن محمد عمن يرفع الستر عن وجه الميت ليراه؟قال لا بأس به۔(الفتاوى التاتارخانية،باب الجنائز،فصل في الكافر يموت وله ولي مسلم،ج3،ص78)


فتویٰ نمبر : 4737/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں