بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

حدیث کو ضعیف کہنے کی وجہ


سوال

میں نے بعض لوگوں سے سنا ہےجوکہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔کیا حدیث ضعیف ہو سکتی ہے؟حالانکہ یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں ہیں۔وضاحت فرمائیں۔

جواب

          اس میں کوئی شک نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کبھی بھی ضعیف  نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ اللہ تعالی قران مجید میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے متعلق سورۃ النجم میں فرماتے ہیں کہ "وہ  اپنے نفس کی خواہش سے نہیں بولتے بلکہ (جو وہ بولتے ہیں) وہ اللہ کی بھیجی ہوئی وحی  ہی ہے"۔جب کسی حدیث کو ضعیف کہا جاتا ہےتو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حدیث  کی سندیعنی راویوں کا وہ سلسلہ جس کے واسطے سے حدیث ہم تک پہنچتی ہےاس سلسلہ میں کوئی کمزوری ہوتی ہےمثلاحدیث کو نقل کرنے والے راویوں میں کوئی راوی کم ہویا کسی راوی کا حافظہ کمزور ہو،اس وجہ سے حدیث ضعیف کہلاتی ہے۔لہذا حدیث ضعیف کا مطلب یہ نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک میں کوئی نقص ہے،بلکہ اس فرمان کو ہم  تک پہنچانے  والے لوگوں میں کسی کمزوری کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت میں ضعف آجاتا ہے۔اس وجہ سے حدیث ضعیف کہلاتی ہے۔

 

قال اللہ تعالی :﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى (3) إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (4) ﴾ (النجم 3،4)

السند:اصطلاحًا: سلسلة الرجال الموصلة للمتن.المتن:اصطلاحًا: ما ينتهي إليه السند من الكلام.(تیسیر مصطلح الحدیث، ص:17 ،)

"الضعیف لغة ضد القوي․․․ اصطلاحا ہو ما لم یجمع صفة الحسن بفقد شرط من شروطہ"(حوالہ بالا ص:51 ،)

"وَمَتَى قَالُوا: " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ " فَمَعْنَاهُ: أَنَّهُ اتَّصَلَ سَنَدُهُ مَعَ سَائِرِ الْأَوْصَافِ الْمَذْكُورَةِ، وَلَيْسَ مِنْ شَرْطِهِ أَنْ يَكُونَ مَقْطُوعًا بِهِ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ، إِذْ مِنْهُ مَا يَنْفَرِدُ بِرِوَايَتِهِ عَدْلٌ وَاحِدٌ، وَلَيْسَ مِنَ الْأَخْبَارِ الَّتِي أَجْمَعَتِ الْأُمَّةُ عَلَى تَلَقِّيهَا بِالْقَبُولِ.وَكَذَلِكَ إِذَا قَالُوا فِي حَدِيثٍ: " إِنَّهُ غَيْرُ صَحِيحٍ " فَلَيْسَ ذَلِكَ قَطْعًا بِأَنَّهُ كَذِبٌ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ، إِذْ قَدْ يَكُونُ صِدْقًا فِي نَفْسِ الْأَمْرِ، وَإِنَّمَا الْمُرَادُ بِهِ أَنَّهُ لَمْ يَصِحَّ إِسْنَادُهُ عَلَى الشَّرْطِ الْمَذْكُورِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ."(مقدمة ابن صلاح مَعْرِفَةُ أَنْوَاعِ عُلُومِ الْحَدِيثِ ، النَّوْعُ الْأَوَّلُ مِنْ أَنْوَاعِ عُلُومِ الْحَدِيثِ، مَعْرِفَةُ الصَّحِيحِ مِنَ الْحَدِيثِ، ص:11)


فتویٰ نمبر : 4729/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں