بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

مرتہن کا مرہونہ چیز سے فائدہ اٹھانا


سوال

مرتہن کا مرہونہ چیز سے راہن کی اجازت سے نفع حاصل کرنے کے متعلق فقہائے احنافؒ کے اقوال مختلف ہیں ،اب سوال یہ ہے جمہور فقہائے احنافؒ کے نزدیک محقق اور مفتی بہ قول کونسا ہے؟

جواب

              واضح رہے کہ قرض کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے رہن کو بطورِ وثیقہ دائن کے پاس رکھا جاتا ہے ،تاکہ مدیون قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول نہ کرے ،مرتہن کے لیے راہن کی اجازت کے بغیر مرہونہ چیز سے فائدہ حاصل کرنا حرام ہے ،تاہم اگر راہن نے خود مرتہن کو فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہو تو ایسی صورت میں حنفیہ کے تین اقوال ہیں ،ایک قول جائز ہونے کا،دوسرا قول مطلقاً ناجائز ہونے کا ،کیونکہ یہ دین پر نفع حاصل کرنا ہے جوکہ سودہے ،تیسرا یہ کہ اگر معاملہ طے کرتے وقت نفع کی شرط لگادی ہو تو ناجائز ہے اور اگر شرط نہ لگائی ہو تو جائز ہے ۔

            راجح قول یہ ہے کہ مرہونہ چیز سے مطلقاً نفع حاصل کرنے کو ناجائز قراردیا جائے،خواہ راہن کی اجازت سے ہو یا اس کی اجازت کے بغیر،خواہ عقدِ رہن میں مشروط ہو یا نہ ہو ،ہر حالت میں اس سے نفع اٹھانا ناجائز ہے ،کیونکہ راہن قرض ہی کی وجہ سے مرہونہ سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتا ہے ،اگر قرض نہ ہوتا تو وہ اجازت نہ دیتا  لہذا یہ قرض پر منفعت حاصل کرنے کی وجہ سے سود کے حکم میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے ۔

 

(لا انتفاع به مطلقا) لا باستخدام، ولا سكنى ولا لبس ولا إجارة ولا إعارة، سواء كان من مرتهن أو راهن (إلا بإذن) كل للآخر، وقيل لا يحل للمرتهن لأنه ربا، وقيل إن شرطه كان ربا وإلا لا.وفي رد المحتار: (قوله وقيل لا يحل للمرتهن) قال في المنح:وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي وكان من كبار علماء سمرقند أنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا فيكون ربا، قال ط: قلت والغالب من أحوال الناس أنهم إنما يريدون عند الدفع الانتفاع، ولولاه لما أعطاه الدراهم وهذا بمنزلة الشرط، لأن المعروف كالمشروط وهو مما يعين المنع وهذا أمر عظيم۔(الدرالمختار مع ردالمحتار ، كتاب الرهن ، ج: 10 ص: 83)

قال العبد الضعيف : قال الموفق"في المغني": لاينتفع من الرهن بشيئ ، أي ما لايحتاج إلى مؤنة، كالدار والمتاع ونحوه ، فلايجوز للمرتهن الإنتفاع به بغير إذن الراهن بحال ، لانعلم في هذا خلافا ؛ لأنّ الرهن ملك الراهن ، فكذلك نماؤه منافعه ،فليس لغيره أخذهابغير إذنه ، فإن أذن الراهن للمرتهن في الإنتفاع بغير عوض ، وكان دين الراهن من قرض لم يجز ؛ لأنّه يحصل قرضا يجر نفعا وذلك حرام ۔(إعلاء السنن ، كتاب الرهن ، ج:18 ص: 74)


فتویٰ نمبر : 2871/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں