بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بچہ ماں کے نیچے دب کر مر نے کی صورت میں دیت اور کفارہ


سوال

اگر چھوٹا بچہ رات کے وقت ماں کے تلے دب جائے توکیا کفارہ لازم ہے؟ دیت کا کیا حکم ہےآج کل دیت کیسے ادا کریں گے؟

جواب

            کسی بچے کا سوئے ہوئے انسان کے کروٹ کے نیچے آکر مرجانا قتل جاری مجری خطا ہے ، اس میں قاتل اگر چہ گناہ گار نہیں ہے، تاہم اس پر دیت اور کفارہ لازم ہے۔

           صورت مسٔولہ کے مطابق اگر بچہ ماں کے تلے آکر مر جائے تو ماں پر کفارہ لازم ہے جو کہ مسلسل دو مہینے روزے رکھنا ہے، تاہم درمیان میں حیض اس تسلسل میں مخل متصور نہیں ہوگا، اور آج کل  عاقلہ سے دیت وصول  کرنے كى عملا كوئی صورت نہیں ہے۔

 

"(و) الرابع (ما جرى مجراه) مجرى الخطأ (كنائم انقلب على رجل فقتله) قال ابن عابدين تحت قوله (ما جرى مجراه إلخ) فحكمه حكم الخطأ في الشرع" (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الجنايات، ج:10، ص:161)

"(وكفارتهما) أي الخطأ وشبه العمد (عتق قن مؤمن فإن عجز عنه صام شهرين ولاء ولا إطعام فيهما) (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الجنايات، ج:10، ص:131)


فتویٰ نمبر : 4741/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں