بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں اپنے بیٹے کو گھر ہبہ کرنا


سوال

 میں بندہ خلیل خان اپنے مال میں سے  اپنے چھوٹے  بیٹے بنام (اللہ نور) کے لیے اپنا گھر بطور ھدیہ دیتا ہوں ،جس میں اس کے ساتھ  میرے وفات کے بعد میرے دوسرے بیٹے ااور بیٹیاں شریک نہیں ہوگی ، کیا از روئے شریعت  میرا یہ ھدیہ دینا درست ہے یا نہیں ،تسلی بخش و مدلل جواب دیں کر ممنون فرمائیں۔

جواب

زندگی میں  اپنے بیٹے کو گھر ہبہ کرنا

سوال: کیا فرماتے ہیں ،علمائے کرام اس مسئلے کہ بارے میں کہ میں بندہ خلیل خان اپنے مال میں سے  اپنے چھوٹے  بیٹے بنام (اللہ نور) کے لیے اپنا گھر بطور ہدیہ دیتا ہوں ،جس میں اس کے ساتھ  میرے وفات کے بعد میرے دوسرے بیٹے اور بیٹیاں شریک نہیں ہوں گی ، کیا از روئے شریعت  میرا یہ ہدیہ دینا درست ہے یا نہیں تسلی بخش و مدلل جواب دیں کر ممنون فرمائیں۔

الجواب و باللہ التوفیق

                                                              واضح رہے کہ اپنی زندگی میں بحالت صحت  وبقائے ہوش و حواس اپنی مملوکہ  جائداد  میں  ہرقسم کے جائز تصرفات کا  حق حاصل ہے، چنانچہ اگرکوئی اپنی پوری جائداد یا اس کا کچھ حصہ  کسی کو بطور ہبہ دینا چاہے ہو تودے سکتاہے  ،  البتہ  اگر اپنی اولاد میں سے کسی کو کچھ جائداد بطو ر ہبہ دینا  چاہے ،تواگر اس سے دوسرے ورثاء کو نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو ، اور یہ ہبہ کسی وجہ ترجیح مثلاً  زیادہ دیندارہونے ، یا معذور ہونے وغیرہ کی بنا پر ہو ،تو شرعا اس میں کوئی قباحت نہیں  ،ورنہ بصورت دیگر گناہ گار ہوگا۔

             صورت مسئولہ میں اگر سائل اپنا گھر اپنے چھوٹے  بیٹے  کو بطور ہبہ  دینےکے ساتھ ساتھ دوسرے  اولاد کو بھی کوئی جائداد  وغیرہ ہبہ  کرے  تو شرعا اس کی گنجائش ہے ،لیکن اگر دیگر کو  محروم کر کے صرف ایک کوہبہ کرے  ،تو اگر چہ  ہبہ کرنے اور قبضہ دینے سے وہ مالک بن جائے گا ،لیکن اس طرح ہبہ کر نے سے باپ گناہ گار ہو گا ۔

والدلیل علی ذالک

وفي الخانية لابأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالإبن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم (الدر المختار على رد المختار ،كتاب الهبة،ص:696،ج:5 )

رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع كذا في فتاوى قاضي خان(الفتاوی الهندية،الباب السادس في الهبة الصغير،ص؛391،ج:4)

کتبہ :عامرزیب خان عثمانی

 

 

 


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں