بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

قبل ازوقت ادائیگی کی صورت میں بائع سے کمی کا مطالبہ کرنا


سوال

قسطوں پر خریداری کے بعد اگر کوئی جلدی یکمشت رقم دینا چاہے تو کیا ایسی صورت میں مشتری کمی کا مطالبہ کرسکتاہے مثلاً زید نے خالد سے ایک رکشہ قسطوں پر دولاکھ میں خریدا دوسال کی مدت ، ماہانہ دس ہزار قسط پر ، اب تین ماہ بعد زید  خالد سے کہتاہے کہ میں آپ کو باقی ایک لاکھ ستر ہزار کے بجائے ایک لاکھ چالیس ہزار یکمشت اس ماہ میں دیتا ہوں اور خالد اس پر راضی ہوتو کیا یہ جائز ہے ؟اور اگر زید کے مطالبہ کے بغیر خالد ایسا کرے تو  اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

             جب بائع اور مشتری مجلس عقد میں کسی قیمت پر اتفاق کر کے بیع منعقد کر لیں تو بیع تام ہوجاتی ہے  اور مشتری حسب معاہدہ طے شدہ ثمن ادا کرنے کا  پابند  ہوتا ہے،پھر اگر معاملہ ادھار  ہو تو مشتری  چاہے وقت مقررہ سے پہلے ثمن ادا کرے یا کسی شرعی عذر کی بنا  پر  وقت مقررہ کے بعد بہر صورت وہی ثمن پورا پورا  ادا کرے گا جو بوقت عقد طے ہوا تھا۔ میعاد مقررہ سے قبل ادائیگی کی صورت میں مشتری کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بائع سے ثمن میں کمی کا مطالبہ کرے ایسے ہی میعاد کے بعد ادائیگی کی صورت میں بائع طے شدہ ثمن  پر زیادتی کے مطالبہ کا حق دار نہیں  ۔

           صورت مسئولہ کے مطابق اگر مشتری (زید) مقررہ میعاد سے قبل نقد ادائیگی کی صورت میں بائع (خالد)سے ثمن میں کمی کا مطالبہ کرکے ایک لاکھ ستر ہزار کے بجائے ایک لاکھ چالیس ہزار دینا چاہے اور پھر بائع اور مشتری باہمی رضامندی سے اس قیمت پر صلح کر لیں تو یہ صورت  جائز نہیں ،تاہم  اگر بائع (خالد) مشتری (زید)کے مطالبہ کے بغیر   اپنی  خوشی سے  رعایت کر  کے کم قیمت مثلا ایک  لاکھ چالیس ہزار وصول کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حق دار جس طرح اپنے حق سے مکمل دستبردار ہو سکتا ہے اسی طرح اس میں کمی کر نے کا بھی مجاز ہے۔

 

"قال ولو كانت له ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة لم يجز لأن المعجل خير من المؤجل وهو غير مستحق بالعقد فيكون بإزاء ما حطه عنه وذلك اعتياض عن الأجل وهو حرام"(الهداية ، باب الصلح فى الدين ، 3/197)

" حط البائع مقدارا من الثمن المسمى بعد العقد صحيح ومعتبر" (شرح المجلة لسليم رستم باز ، المادة: 256 ، ص: 133)


فتویٰ نمبر : 2873/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں