بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

بیع فاسد کے ساتھ زمین خرید کر قبضہ سے پہلے بائع پر فروخت کرنا


سوال

میں نے ایک ز مین ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ کی خریدلی ، فی مرلہ پانچ لاکھ چالیس ہزار مقرر ہوا ، تمام پیسے میں نے ادا  کرلی اور یہ شرط لگادی کہ تین ماہ بعد بیچنے والا اس زمین میں باقاعدہ پلاٹنگ کر کے مشتری کے حوالہ کرے گا ، اگر تین ماہ میں بائع یہ کام نہ کر سکا تو وہ اس بات کا پابند ہوگا کہ اس زمین کے ساتھ متصل پلاٹنگ میں مشتری کو اتنی زمین حوالہ کرے گایا مشتری کو یہ حق حاصل ہوگا کہ جہاں پر بھی بائع کی کوئی زمین مشتری قبضہ کرنا چاہےتو کرسکے گا۔مقررہ مدت کے کافی عرصہ گزرنے کے بعد بھی بائع نےمذکورہ زمین مشتری کے حوالہ نہیں کی ، چنانچہ بائع نے یہی زمین مشتری سے ایک لاکھ روپے فی مرلہ نفع کے ساتھ خرید لی۔ کیا یہ معاملہ درست ہے یا نہیں؟ 

جواب

           واضح رہے کہ جب بیع  میں کوئی ایسی شرط لگائی جائے جس میں بائع یا مشتری اور یا مبیع کا فائدہ ہو ،تو اس سے  بیع  فاسد ہو جاتی ہےاور بیعِ فاسد کو فسخ کرنا بائع اور مشتری دونوں پر لازم ہے۔نیز  قبضہ سے پہلے مشتری کی ملکیت مبیع پر ثابت نہیں ہوتی، لہذااس کو کسی قسم کے تصرف کا حق حاصل نہیں ہوتا اور  بیعِ فاسد سے فروخت کی ہوئی چیز جب  مشتری بائع کو واپس کردے تو  چاہے بیع کی ذریعے ہو یاہبہ اور عاریت وغیرہ کے ذریعےبہر حال اس سے سابقہ بیع فسخ ہوجائے گی ۔

          صورتِ مسئولہ میں زمین کو اس شرط کے ساتھ خریدنا کہ بائع اس میں پلاٹنگ کرے گا اور پلاٹنگ نہ کرنے کی صورت میں مشتری کو  دوسری جگہ پلاٹنگ میں اتنی زمین  حوالہ کرے گا بیعِ فاسد ہے، لہذا حسب بیان چونکہ زمین اب تک مشتری کو حوالہ نہیں کی گئی ہے، اس لیے ملکیت نہ پائے جانے کی وجہ سے مشتری کے لیے  اس زمین کو بیچنا بھی جائز نہیں۔نیز بائع کو واپس بیچنے سے سابقہ  بیع فسخ ہوگئی، اس لیے مشتری کے لیے اتنے ہی پیسے ملیں گے جتنے اس نے دیےہیں، اس زیادہ پیسے لینا اس کے لیے جائز نہیں۔

 

وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده۔۔۔۔ قال ومن اشترى ثوبا على أن يقطعه البائع ويخيطه قميصا أو قباء فالبيع فاسد لأنه شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين ولأنه يصير صفقة في صفقة على ما مر۔(الهداية، کتاب البيوع، باب البيع الفاسد،116/5)

وأما شرائطه فاثنان أحدهما القبض فلا يثبت الملك قبل القبض لأنه واجب الفسخ رفعا للفساد وفي وجوب الملك قبل القبض تقرر الفساد۔(بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في حكم البيع،ج:7، ص:377)

ولو رد المشتري المبيع على بائعه في الشراء الفاسد انفسخ العقد على أي وجه رد عليه ببيع أو هبة أو صدقة أو بعارية أو وديعة۔(الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب الحادي عشرفي أحكام البيع الغيرالجائز، ج:3،ص:149)


فتویٰ نمبر : 2870/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں