بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
زکوۃ کی رقم سے کرایہ کے مکان میں مالک کی اجازت سے بور کرنا
سوال
زید ایک کرایہ کے گھر میں رہتا ہے، بکر( مزکی) نے زید ( کرایہ دار) کے لیے اس گھر میں زکوٰۃ کے پیسوں سے پانی کا بورکیا اور مشین(واٹرپمپ) لگایا ، اور ساری کارروائی بکر (مزکی) نے بذاتِ خود کی، درآنحالیکہ مالک مکان سے اجازت لی گئی تھی کہ ہم اس گھر میں ٹیوب ویل اور مشین(واٹرپمپ) لگانا چاہتے ہیں۔ آپ اس کا خرچہ دیں گے۔ مالک مکان نے کہا تھا کہ ٹھیک ہے اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ بکر کی زکوٰۃ ادا ہو گئی ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی جس طرح نقد رقم سے جائز ہے، اسی طرح کسی اور جنس مثلاً اشیاء استعمال، غذائی اجناس، کپڑے لباس وغیرہ یا ٹیوب ویل اور مشین (واٹرپمپ) لگانے سے بھی جائز ہے، تاہم اس کے لیے تملیک ( مستحق زکوٰۃ کو مالک بنانا) ضروری ہے۔
صورت مسئولہ میں اگر مالک مکان کی اجازت سے ٹیوب ویل لگایا گیا ہو اور اس نے خرچہ دینے کا بھی کہا ہو تو ایسی صورت میں ٹیوب ویل اور مشین(واٹرپمپ) لگانے سے اس کی زکوٰۃ ادا نہ ہو گی، کیونکہ یہاں بکر مالک مکان کی طرف سے وکیل متصور ہوگا۔ تاہم اگر ٹیوب ویل اور مشین لگانے کے بعد بکر(مزکی)مالک مکان سے ٹیوب ویل اور مشین کا خرچہ لے کر زید ( مستحق زکوٰۃ ) کو ان پیسوں کا مالک بنا دے تو اس صورت میں بکر(مزکی) کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا) لا إباحة. ( الدرالمختار، كتاب الزكوة، باب المصرف، ج٣،ص٢٩١)
وبهذا شرط التمليك في الزكوة والعشر و صدقةالفطر. ( بدائع الصنائع، فصل وأما شرط جواز كل نوع، ج٥،ص١٠١)
أما الذي يرجع إلى المؤدي، فمنها أن يكون مالا متقوما على الإطلاق سواء كان منصوصاعليه أو لا،من جنس المال الذي وجبت فيه الزکوٰۃ أو من غير جنسه. ( بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، فصل فيما يرجع إلى المؤدي،ج٢،ص٤٦١)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں