بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گھٹنوں میں سونا لگانا


سوال

اگر كوئی شخص کسی عذر ،بیماری کی وجہ سے گھٹنوں میں سونا لگائے ،چونکہ سونا لگانے کے بعد طویل عرصہ تک دوبارہ شکایت نہیں رہتی ،جبکہ متبادل کے طور پر ہڈی وغیرہ لگائی جاتی ہے لیکن وہ اس قدر پائیدار نہیں ہوتی ۔تو کیا ایسی صورت میں سونا لگاناشرعاً جائز ہے؟

جواب

             شرعی نقطہ نظر سے مسلمان مردوں کے  لیے سونے کا استعمال حرام ہے،چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ ﷺ کے ایک دست مبارک میں ریشم اور دوسرے میں سونا تھا ،آپﷺ نے ارشاد فرمایاکہ "یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں "۔اصل حکم تو یہی ہے لیکن اگر کوئی مرد کسی ضرورت اور مجبوری کے پیشِ نظر سونا یا ریشم کو استعمال میں لانا چاہے ،تو ضرورت کے بقدر اس کی گنجائش ہے، مثلاً کسی مرد کو سونے کا کوئی عضو لگانے کی ضرورت پیش آجائے،تو مجبوری کی بنا پر لگاسکتا ہے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ یوم الکلاب میں حضرت عرفجہ کی ناک ٹوٹ گئی تھی، تو انہوں نے چاندی کی ناک لگائی تھی، مگر وہ بدبو کرنے لگی تو نبی پاک ﷺ نے ان کو سونے کی ناک لگانے کا حکم دیا۔

          صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص گھٹنوں کی بیماری کے سبب کسی دیندار، ماہر ڈاکٹر کے مشورے سے گھٹنوں میں سونا لگانا چاہے اور اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو، یا اس کامتبادل تو موجود ہو لیکن وہ یا تو پائیدار نہ ہویا اس سے ضرورت صحیح طرح پوری نہ ہوسکتی ہو، تو ایسی صورت میں ضرورت اور مجبوری کے پیشِ نظر سونا لگانے کی گنجائش ہے۔

 

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ يَعْنِي الْغَافِقِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ، وَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي۔(سنن أبي داود ، كتاب اللباس ، باب ماجاء في الحرير للنساء ، ج: 2 ص: 205)

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ، أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ، «قُطِعَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ۔(سنن أبي داود ، كتاب الخاتم ، باب ماجاء في ربط الأسنان بالذهب ، ج:2 ص: 267 ، رقم الحديث: 4232)

(ولا يشد سنه) المتحرك (بذهب بل بفضة) وجوزهما محمد (ويتخذ أنفا منه) لأن الفضة تنتنه۔(قوله لأن الفضة تنتنه) وأشار إلى الفرق للإمام بين شد السن، واتخاذ الأنف فجوز الأنف من الذهب لضرورة نتن الفضة لأن المحرم لا يباح إلا لضرورة وقد اندفعت في السن بالفضة فلا حاجة إلى الأعلى وهو الذهب. قال الأتقاني: ولقائل أن يقول مساعدة لمحمد لا نسلم أنها في السن ترتفع بالفضة لأنها تنتن أيضا وأصل ذلك ما روى الطحاوي بإسناده إلى «عرفجة بن أسعد أنه أصيب أنفه يوم الكلاب في الجاهلية فاتخذ أنفا من ورق فأنتن عليه، فأمره النبي - صلى الله عليه وسلم - أن يتخذ أنفا من ذهب، ففعل»۔(الدرالمختار مع ردالمحتار ، كتاب الحظر والإباحة ، ج: 9 ص: 521)


فتویٰ نمبر : 4727/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں