بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بچے کے بلوغ کی حد


سوال

ہم مستفتین ضلع سوات جیسے ٹھنڈے علاقے کے باشندے ہیں، ضلع سوات میں پیدا  ہونے والے بچے کے بلوغ کے لیے شرعا/قانونا کیا حد مقررہے؟ از راہِ کرم دلائل سے یہ مسئلہ واضح کریں۔

جواب

                شریعتِ مطہرہ کی رو سے لڑکے کے بلوغ کی کم سے کم عمر بارہ(12) سال، جب کہ لڑکی کے لیے نو(9) سال مقرر ہے۔ لہٰذا اگرکسی لڑکے میں بارہ سال پورا ہونے کےبعد بلوغ کی علامات(احتلام یا انزال وغیرہ) پائی جائیں، اور لڑکی میں نو سال کے بعد بلوغ کی علامات(احتلام، حیض یا استقرارِ حمل) پائی جائیں تو ان کو شرعاً بالغ سمجھا جائےگا، تاہم اگر مذکورہ عمر کے بعد ان میں یہ علامات نہ پائی گئیں تو مفتی بہٖ قول کے مطابق قمری سال کے اعتبار سے پندرہ سال پورا ہونے پر دونوں کو بالغ سمجھا جائےگا، اس میں کسی علاقے کے موسم اور آب و ہوا کا اعتبار نہیں ہے۔

        چونکہ احکامِ شریعت میں بچے کے بلوغ کی شرعی حد معتبر ہے نہ کہ قانونی حد،اس لیے قانون چاہے بلوغ کے لیے جو بھی حد مقرر کرے، بہر حال نماز، روزہ، حج اور زکوۃ وغیرہ تمام احکام کے وجوب وغیرہ کا دارومدار شریعت کے مقرر کردہ حدِ بلوغ پر ہوگا۔

 

( مَادَّةُ 986 ) - ( مَبْدَأُ سِنِّ الْبُلُوغِ فِي الرَّجُلِ اثْنَتَا عَشْرَةَ سَنَةً وَفِي الْمَرْأَةِ تِسْعُ سَنَوَاتٍ وَمُنْتَهَاهُ فِي كِلَيْهِمَا خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ... وَإِذَا أَكْمَلَ الشَّخْصُ الْخَامِسَةَ عَشْرَةَ وَلَمْ تَظْهَرْ عَلَيْهِ آثَارُ الْبُلُوغِ سَوَاءٌ أَكَانَ ذَكَرًا أَمْ أُنْثَى فَيُحْكَمُ عِنْدَ الْإِمَامَيْنِ بِبُلُوغِهِ . وَقَدْ أَفْتَى بِقَوْلِ الْإِمَامَيْنِ , مَشَايِخُ الْإِسْلَامِ وَاخْتَارَتْهُ الْمَجَلَّةُ أَيْضًا . (درر الحكام شرح مجلة الأحكام، مادة:986، کتاب الحجر، الباب الاول، الفصل الثانی، ج:2/ص:706)


فتویٰ نمبر : 4723/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں