بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

قبلہ کی طرف پاؤں پھیلانا


سوال

قبلہ کی طرف پاؤں پھیلانے سے متعلق کسی  حدیث میں ممانعت آئی ہے یا نہیں۔اگرحدیث میں ممانعت  نہیں آئی ہے ،تو پھر کیوں قبلہ کی طرف  پاؤں پھیلانے سے منع کیا جاتا ہے ۔حا لانکہ  ہم پاکستان میں  کعبہ  سے دور ہیں؟

جواب

               واضح رہے کہ کعبہ شعائراللہ میں سے ہے،   اس کی تعظیم واحترام اور ادب کا حکم دیا گیا ہے ، جس فعل سے کعبہ کی بے احترامی اور بے ادبی ہوتو شرعا وہ ممنوع ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ کعبہ  کے اوپر نماز پڑھنے سے  چونکہ کعبہ  کی بے احترامی ہوتی ہے،اس لیے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  اس سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ  عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سات جگہوں    میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا   جن میں ایک کعبہ کے اوپر نماز پڑھنا ہے۔اسی  طرح  حذیفہ  بن یمان رضی  اللہ  عنہ  فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم  نے فر مایا  جس  نے قبلہ   کی  جانب  تھوکا  تو قیامت کے دن  اس حال میں آئے گا کہ تھوک اس کے دونوں  آنکھوں کے درمیان ہوگی۔

               کعبہ کی طرف پاؤں  پھیلانا کی ممانعت کے متعلق  کوئی  صریح حدیث تو نہیں ملتی    لیکن جس  علاقے  کے عرف و  رواج  کے مطابق کسی  محترم  چیز کی طرف پاؤں پھیلانا بے ادبی کی علامت ہوتو وہاں  کعبہ  کے احترام کی خاطر  اس کی  طرف پاؤں پھیلانا بے ادبی  ہو نے کی وجہ  سے  ممنوع  ہوگا۔

 

قال الله تعالی: وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوب(الحج:23)

نھی رسول الله صلی الله عليه وسلم أن يصلي في سبع مواطن في المزبلة والمجزرة والمقبرة وقارعة الطريق والحمام ومعاطن الإبل  وفوق الكعبة ۔(سنن ابن ماجه،كتاب المسجد والجماعة باب المواضع التي تكره فيها الصلاة،ج:1ص24)

عن حذيفة بن اليمان  قال :قال رسول الله صلی الله عليه وسلم  من تفل  تجاه القبلة جاء يوم القيامة وتفلته بين عينيه۔(صحيح ابن حبان، كتاب الصلوة، رقم الحديث:1636)

ويكره مد الرجلين إلى الكعبة في النوم وغيره عمدا ۔( الفتاوی الهندية،كتاب الكراهية،الفصل الخامس،في اداب المسجد،والقبلة،ج:5ص:369)


فتویٰ نمبر : 4767/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں