بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

وضو،غسل ،استنجااورزیرناف بال صاف کرنےمیں دوسرےسےمددلینا


سوال

ایک شخص بوڑھاہوگیاہےیاشیخ فانی ہےیااس کےہاتھ شل ہوگیےہیں یااس کوفالج ہواہےیااس کےہاتھ کٹ گئے ہیں،جس کی وجہ سےوہ اپنی صفائی ،غسل،استنجااورزیرناف بال کوصاف نہیں کرسکتا،اور اس کی اہلیہ بھی نہیں ہےکہ مذکورہ خدمات سرانجام  دیں۔کیااس کی اولادیہ خدمت سرانجام دےسکتی ہیں؟اوراس کاطریقہ کارکیاہوگا؟

جواب

            فقہائےکرام ؒ کی عبارات سےمعلوم ہوتاہےکہ انسان کےلیےوضواوربدن  کی صفائی وستھرائی میں عذر کی بناپردوسرےسےمدد لینےکی گنجائش ہے،البتہ غسل،استنجااورزیرناف بال کاٹنےمیں چونکہ سترکامسئلہ ہے،اس لیے جہاں تک ممکن ہوخودصفائی کااہتمام کیاجائےبصورت دیگراپنی اہلیہ سےمذکورہ خدمت لےسکتاہے ۔

          صورت مسئولہ کےمطابق اگرکوئی شخص ایسامعذورہوکہ وہ وضو،غسل ،استنجااورزیرناف بال صاف کرنےپرخودقادرنہ ہواور اس کی اہلیہ بھی حیات نہ ہوجو یہ خدمت سرانجام دے تووضوکی خدمت كوئی مردخواه بيٹاہو،بھائی ہویا نوکر بغیرکسی کراہت کےسرانجام دےسکتاہے،البتہ غسل،استنجااورزیرناف بال صاف کرنےمیں اصل تویہ ہےکہ انسان خودکرے،تاہم اگرکسی عذرکی وجہ سے وہ خودصفائی پرقادرنہ ہوتوپھربامرمجبوری دوسرےآدمی سےضرورت کےدرجہ میں مددلینےکی گنجائش ہے، جیسےڈاکٹر حضرات کےلیے بغرض تشخیص ستر کی جگہ دیکھنےکی گنجائش ہے، اسی طرح مجبوری کی بناپرغسل،زیرناف بالوں کی صفائی اوراستنجاکرنےمیں بقدرضرورت  دوسرے سے مددلینے کی شرعااجازت ہے ،لیکن اس شخص (غسل دینے،زیرناف بالوں کی صفائی اوراستنجاکرانےوالے) پرلازم ہےکہ حتی الامکان سترکی جگہ دیکھنے سے گریزکرے، نیزصفائی کراتےوقت اپنےہاتھ پرکوئی کپڑایاسرجیکل داستانہ پہنے،تاکہ بغیرحائل کے اس کے سترکوہاتھ نہ لگے۔

 

يكره أن يستعين في وضوئه بغيره إلا عند العجز؛ ليكون أعظم لثوابه وأخلص لعبادته.(ردالمحتارعلى هامش الدرالمختار، كتاب الطهارة، مطلب في مباحث الاستعانة  فى الوضوء بالغير، ج:1، ص:251، دارالكتب العلمية)

الرجل المريض إذا لم يكن له امرأة ولا أمة وله ابن أو أخ وهو لا يقدر على الوضوء فإنه يوضئه ابنه أو أخوه غير الاستنجاء فإنه لا يمس فرجه وسقط عنه الاستنجاء. كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، فصل فى الاستنجاء، ج:1، ص:105، دارالفكر)

في جامع الجوامع حلق عانته بيده وحلق الحجام جائز إن غض بصره كذا في التتارخانية.(أيضا، كتاب الكراهية، الباب التاسع عشرفى الختان والخصاء...، ج:5، ص:413، دارالفكر)

الضرورات تبيح المحظورات.(الأٓشباہ والنظائر، المادة:5، ص:43، سعيد)


فتویٰ نمبر : 8872/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں