بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

اللہ کے راستے میں عمل پر انچاس کروڑ کا ثواب ملنے والی روایات کی تحقیق


سوال

 ۱۔اللہ کے راستے میں ایک نماز، روزہ اور ذکر پر انچاس کروڑ کا ثواب ملنے کے بارے میں جن دو روایتوں کو ملا یا جاتا ہے کیا وہ روایات مستند ہیں؟اوربیان کرنے کے قابل ہیں؟

۲۔کیا یہ فضیلت صرف جہاد کے ساتھ خاص ہےیا تبلیغی جماعت میں وقت لگا  نے والوں ،علم کی تلاش میں نکلنے والوں  اور حج پر جانے والوں کو بھی یہ ثواب ملے گا؟

۳۔اللہ کے راستے میں نماز ،روزہ اور ذکر پر انچاس کروڑ کا اجر ملے گا ۔ کیا اللہ کے راستے کی فضیلت بیان کرنے کے لیے اس کو اس طریقے سے ترغیب کے طور پر بیان کرنا صحیح ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ اللہ کے راستے میں نکلنے والے کو ایک نماز اور ذکر پر انچاس کروڑ کا ثواب ملنے کے لیے جن دو روایات کو ملایا جاتا ہے ان میں سے ایک روایت سنن ابی داؤد کی ہے جس کے بارے میں علامہ خلیل احمد سہارنپوریؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اس لیے کہ اس کی سند میں دو ضعیف راوی ہیں ایک" زبان بن فائد" اور دوسرا "سہل بن معاذ"ہے، جب کہ دوسری روایت سنن ابن ماجہ کی ہے جس کی سند میں "خلیل بن عبداللہ" ہے جس کے متعلق ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ مجہول راوی ہے۔

 لہذاسندا یہ دونوں  روایتیں ضعیف ہیں ، لیکن فضائل میں ضعیف روایت کو بھی بیان کیا جاسکتا ہے،اس لیے یہ بیان کرنے کے قابل ہے۔

2- اگر چہ اللہ تعالی کی راہ میں دشمنانِ اسلام سے لڑنا"فی سبیل اللہ" کا اعلیٰ درجہ ہے ، لیکن "فی سبیل اللہ " کے مفہوم چونکہ وسعت ہے ، لہذا جہاد ، تبلیغ، حج اور درس وتدریس وغیرہ دین کے تمام شعبوں کو "فی سبیل اللہ"کے فضائل حاصل ہوں گے۔

3- ایسی کوئی صریح حدیث نہیں ملتی جس کے الفاظ سے صاف صاف ثابت ہو  کہ ایک نماز، روزہ وغیرہ کا ثواب انچاس کروڑ ملتا ہے، اس لیے یوں  کہنا درست نہیں کہ "حدیث میں ہے کہ اللہ کے راستے میں ایک نماز، روزہ اور ذکر پر انچاس کروڑ کا اجر ملے گا"، البتہ جن دو حدیثوں کو ملا کر یہ فضیلت بیان کی جاتی ہے اگر ان دونوں کو ذکر کر کے پھر ضرب کی وضاحت کردی جائے تو اس کی گنجائش ہوگی۔

 

(حدثنا أحمد بن عمرو بن السرح، نا ابن وهب، عن يحيى بن أيوب وسعيد بن أبي أيوب، عن زبان بن فائد، عن سهل بن معاذ، عن أبيه) معاذ بن أنس (قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إن الصلاة والصيام والذكر)، ويدخل فيه التسبيح والتهليل والتكبير والتصلية وقراءة القرآن بالتدبر وغير ذلك من أنواع الذكر (يضاعف) أي يزاد باعتبار الأجر والثواب (على النفقة في سبيل الله عزَّ وجلَّ بسبع مائة ضعف)۔۔۔ والحديث ضعيف، لأن في سنده زبان بن فائد وسهل بن معاذ.(بذل المجهود، كتاب الجهاد، باب تضعيف الذكر في سبيل الله ، ج:11، ص:404)

زبان بن فائد بالفاء المصري أبو جوين بالجيم مصغرا الحمراوي بالمهملة ضعيف الحديث مع صلاحه وعبادته۔(أيضا،رقم:1995، ص:364)

سهل بن معاذ بن أنس الجهني نزيل مصر لا بأس به إلا في روايات زبان عنه من الرابعة۔(أيضا، رقم:2682، ص:478)

" حدثنا هارون بن عبد الله الحمال ثنا ابن أبي فديك عن الخليل بن عبد الله عن الحسن عن علي بن أبي طالب وأبي الدرداء وأبي هريرة وأبي أمامة الباهلي وعبد الله ابن عمر وعبد الله بن عمرو وجابر بن عبد الله وعمران بن الحصين كلهم يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال: من أرسل بنفقة في سبيل الله وأقام في بيته فله بكل درهم سبعمائة درهم، ومن غزا في سبيل الله وأنفق في وجه ذلك فله بكل درهم سبعمائة ألف درهم، ثم تلا هذه الآية: {والله يضاعف لمن يشاء}". (سنن ابن ماجه، کتاب الجهاد، باب فضل النفقة في سبيل الله، ص: 198)

الخليل بن عبد الله مجهول من السابعة۔(تقريب التهذيب، رقم:1764ج:1، ص:325)

ما قوله تعالى " وفي سبيل الله "عبارة عن جميع القرب فيدخل فيه كل من سعى في طاعة الله تعالى وسبيل الخيرات۔(بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، باب المصارف، ج:3، ص:230)

( ويجوز عند أهل الحديث وغيرهم التساهل في الأسانيد ) الضعيفة ( ورواية ما سوى الموضوع من الضعيف والعمل به من غير بيان ضعفه في غير صفات الله تعالى ) وما يجوز ويستحيل عليه وتفسير كلامه ( والأحكام كالحلال والحرام و ) غيرهما وذلك كالقصص وفضائل الأعمال والمواعظ وغيرها ( مما لا تعلق له بالعقائد والأحكام ) ومن نقل عنه ذلك ابن حنبل وابن مهدي وابن المبارك قالوا إذا روينا في الحلال والحرام شددنا وإذا روينا في الفضائل ونحوها تساهلنا تنبيه۔(تدريب الراوي، النوع الثاني والعشرون: المقلوب، 149)


فتویٰ نمبر : 4758/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں