بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

سوشل میڈیا پر تصویر لگانا


سوال

 کسی نے اپنی زندگی میں تصویر کھینچوائی  تو اس کے مرنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس کی تصویر لگانا کیسا ہے؟ آجکل جو ڈیجیٹل تصاویر ہیں اس کی شرعی حیثیت کیا ہےاور ضرورت کا دائرہ کار بھی واضح کریں ۔

جواب

              واضح رہے کہ جان دار کی تصویر بنانا، کھینچوانا، یا استعمال کرنا بغیر کسی ضرورت شدیدہ کے نا جائز ہے اور آجکل جو ڈیجیٹل تصاویر ہیں یہ تصویر ہی کی ایک جدید قسم ہے یہی وجہ ہے کہ عرف میں اس کو تصویر ہی کہا جاتا ہے لہذا اس پر تصویر کا حکم لاگو ہوگا۔ البتہ ضرورت کے پیش نظر قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا نوکری وغیرہ کے لئے تصویر کھینچوانے کی گنجائش ہے۔

            صورت مسئولہ میں اگر کسی نے اپنی زندگی میں بغیر کسی ضرورت شدیدہ کے تصویر کھینچوائی تو گناہ کا مرتکب ہوا جب کہ مرنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس کی تصویر لگانا بھی لگانے والے کے حق میں گناہ ہے۔

 

وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه - صلى الله عليه وسلم - «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم» ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم ودينار وفلس وإناء وحائط وغيرها اهـ.

فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل لتواتره).البحر الرائق شرح كنز الدقائق، ج: 2، ص: 48)

الضرورات تبيح المحظورات۔(الاشباہ والنظائر لابن نجیم، ص: 43)


فتویٰ نمبر : 4910/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں