بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بڑےجانورمیں واجب قربانی کےساتھ عقیقہ کی نیت کرنا


سوال

قربانی کےبڑےجانورمیں سات آدمی شریک ہیں،سات حصّوں میں سےایک  شریک کےتین حصّےہیں،ایک حصّہ قربانی کااوردوحصّےعقیقےکے،توعقیقےکےدوحصّوں کی وجہ سےشرکااوراس کی قربانی پرکوئی اثرپڑتاہےیانہیں؟

جواب

            واضح رہےکہ قربانی کےشرکامیں سےجب تک کسی شریک کی نیت صرف گوشت کاحصول نہ ہو،توتقرّب باری تعالی کی جوبھی نیت ہو،جیسےنفلی قربانی،دم تمتع،دم قِران یاعقیقہ وغیرہ،تویہ سب نیتیں کرناجائزہیں،اوراس سےشرعاشرکاکی واجب قربانی پر کوئی اثرنہیں پڑتا۔

           صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرقربانی کےبڑےجانور(اونٹ،گائےیابھینس)میں سات آدمی شریک ہوں،اوران میں سےایک شریک نےدوحصّوں میں عقیقہ کی نیت کی ہو،توباقی شرکاکی قربانی پرشرعاکوئی اثرنہیں پڑتا۔

 

ولو أرادوا القربة الأضحية أو غيرها من القرب أجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجب على البعض دون البعض وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي الإحصار وبعضهم كفارة عن شيء أصابه في إحرامه وبعضهم هدي التطوع وبعضهم دم المتعة أو القران وهذا قول أصحابنا الثلاثة رحمهم الله تعالى وكذلك إن أراد بعضهم العقيقة عن ولد ولد له من قبل(الفتاوی الھندیة،کتاب الأضحیّة،الباب الثامن فی مایتعلق بالشّرکةفی الضحایا،ج 5ص351)


فتویٰ نمبر : 8887/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں