بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

وطنِ اصلی کی تبدیلی


سوال

ایک شخص بیس سال سےاپناآبائی علاقہ چھوڑکرپشاورمیں آبادہے،لیکن اس کاآبائی علاقےمیں گھراورجائیداد موجود ہے،اورپشاورمیں اگرچہ اس کاذاتی گھرنہیں ہے،لیکن کرایےکےگھرمیں اپنےاہل وعیال کےساتھ پشاورمیں رہتاہے،اس کی نوکری بھی یہاں ہے،اورآبائی علاقےکواپنےاہل وعیال منتقل کرنےکا کوئی ارادہ نہیں،بلکہ پشاورمیں گھرخریدنےکاارادہ ہے،اورآبائی علاقہ کوچارپانچ سال بعدجاتاہے۔اب سوال یہ ہےکہ وہ اپنےآبائی علاقہ کوپندرہ دن سےکم کےلیےجائے،یعنی اقامت کی نیّت نہ کرے،تو قصرکرےگایااتمام کرےگا،وضاحت فرمائیں؟

جواب

            اگرکوئی شخص اپنےآبائی وطن سےاہل وعیال سمیت کسی دوسری جگہ منتقل ہوکرمستقل سکونت اختیارکرتاہے،اورآئندہ اس علاقے میں نہ رہنےکاعزم کرلیتاہے،تواس کاوطن اصلی باطل ہوگا،اوریہ دوسراعلاقہ اس کاوطن اصلی کہلائےگا،لہذااگرکہیں کسی وجہ سےاپنےآبائی وطن جائےگا،توپندرہ دن سےکم ٹھہرنےکی صورت میں مسافرکےحکم میں شمارہوکرقصرکرےگا،بشرطیکہ دونوں علاقوں کادرمیانی فاصلہ سفرشرعی کی مقدارمیں ہو۔

            صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرکوئی شخص کااپنےآبائی علاقہ کوچھوڑکرپشاورمیں اپنےاہل وعیال سمیت مستقل طورپررہائش پذیرہو،اوراس کاآبائی علاقہ میں صرف گھراورجائیدادہو،لیکن وہاں مستقل سکونت کی غرض سےواپس جانےکاکوئی ارادہ نہ ہو،توپشاوراس کا وطن اصلی ہے،اوراس سےآبائی علاقےکاوطن اصلی ہوناباطل ہوچکاہے،لہذااگراپنےآبائی علاقہ کوپندرہ دن سے کم کےلیےجائےگا،توقصرکرےگا۔

 

ثم الأوطان ثلاثة وطن أصلي وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها۔۔۔ فالوطن الأصلي ينتقض بمثله لا غير. وهو أن يتوطن الإنسان في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها من بلدته فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا له حتى لو دخل فيه مسافرا لا تصيرصلاته أربعا(بدائع الصّنائع،کتاب الصّلوۃ،باب صلوۃالمسافر،ج 1ص498)

( الوطن الأصلي ) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه(یبطل بمثلہ)إذا لم يبق له بالأول أهل فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما.وقال الشامی تحتہ: أي وإن بقي له فيه عقار. قال في النهر : ولو نقل أهله ومتاعه وله دور في البلد لا تبقى وطنا له وقيل تبقى كذا في المحيط وغيره(الدّرالمختارمع ردّالمحتار،کتاب الصّلوۃ،باب صلوۃالمسافر،ج 2ص614)


فتویٰ نمبر : 8877/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں