بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

رضاعی خالہ سے نکاح کا حکم


سوال

 میرا نکاح میری خالہ کی بیٹی کے ساتھ ہو رہا ہے اور اس خالہ کی بیٹی کو میری نانی نے دودھ پلایا ہے، تو کیا شرعا میرا نکاح اس سے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

            جب  کوئی بچی  مدت رضاعت ( دو سال کے اندر) میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو یہ خاتون اس بچی کی رضاعی ماں اور اس کی اولاد اس کے بہن بھائی بن جاتے ہیں۔

            صورت مسٔولہ میں اگر واقعی سائل کی خالہ کی بیٹی کو سائل کی نانی نے دودھ پلایا ہو ، تو دودھ پینے والی لڑکی سائل کی رضاعی خالہ بنتی ہےاور شرعا جس طرح نسبی خالہ سے نکاح جائز نہیں اسى طرح رضاعى خالہ سے بھی جائز نہیں۔

 

" عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم في بنت حمزة: «لا تحل لي، يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب، هي بنت أخي من الرضاعة" (صحيح البخاري،باب الشهادة على الأنساب والرضاع،حديث:2645)

"ولا يتزوج المرضعة أحد من ولد التي أرضعت " لأنه أخوها " ولا ولد ولدها " لأنه ولد أخيه" (الهداية،كتاب الرضاع،ج:4،ص:124)


فتویٰ نمبر : 6279/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں