بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

باتھ روم میں دوران وضو دعائیں پڑھنا


سوال

آج کل بیت الخلاءاور غسل خانے ایک ہی جگہ پر ہوتے ہیں،اس طرح کے باتھ روم میں جب بظاہر گندگی نہ ہوتو کیا وضو کرنے کے دوران دعائیں پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ مسنون دعاؤں کی تعظیم کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کا ورد پاک اورصاف جگہ میں کیا جائے،گندہ اور ناپاک جگہ میں نہ کیا جائے،کیونکہ ان میں ذکراللہ ہوتا ہے۔

           آج کل جو بیت الخلاء اور غسل خانے ایک جگہ پر ہوتے ہیں،اگر ان میں بیت الخلاءاورغسل خانہ الگ الگ ہو اور بیت الخلاء بھی گندگی کی گزر گاہ ہو ،یعنی اس میں گندگی نہ رہتی ہو اور صاف ہو تو ایسے غسل خانہ میں  وضو کرتے وقت دعائیں پڑھنے کی گنجائش ہےالبتہ بہتر یہ ہے کہ تیز آواز سے نہ پڑھی جائے ۔تاہم اگر گندگی پڑی ہو تو ایسی صورت میں زبان سے دعائیں نہیں پڑھنی چاہئے بلکہ دل ہی دل میں ان کا ورد کرنا چاہئے۔

 

قراءة القرآن في الحمام على وجهين إن رفع صوته يكره وإن لم يرفع لا يكره وهو المختار وأما التسبيح والتهليل لا بأس بذلك وإن رفع صوته كذا في الفتاوى الكبرى(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الرابع في الصلاة والتسبيح وقراءة القرآن،ج:5،ص:365)

قال في الخانية وتكره قراءة القرآن في موضع النجاسة كالمغتسل والمخرج والمسلخ وما أشبه ذلك وأما في الحمام فإن لم يكن فيه أحد مكشوف العورة وكان الحمام طاهرا لا بأس بأن يرفع صوته بالقراء وإن لم يكن كذلك فإن قرأ في نفسه ولا يرفع صوته فلا بأس به ولا بأس بالتسبيح والتهليل وإن رفع صوته (ردالمحتار،كتاب الصلاة،باب صلاة الجنازة،مطلب في القراءة عند الميت،ج:3،ص:85)


فتویٰ نمبر : 4748/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں