بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

درختوں پر چھوڑنے کی شرط کے ساتھ پھل فروخت کرنا


سوال

 کیا کچا پھل فروخت کر کے  پکنے تک بطورِ شرط درختوں پر چھوڑنے سے بیع فاسد ہوتی ہے ، جیسا کہ فقہ حنفی کے متون سے معلوم ہوتا ہے یا عرفِ عام کی وجہ سے ایسی شرط لگانا جائز ہے؟ 

جواب

                 واضح رہے کہ پھلوں کی بیع میں پھلوں کو پکنے تک درختوں پر چھوڑنے کی شرط لگانامقتضاے عقد کے خلاف ہے اور جو شرط مقتضاے عقد کے خلاف ہو اس سے بیع فاسد ہوتی ہے، البتہ امام محمدؒ کے نزدیک اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر پھل بڑھ جانے کے بعد بیع ہوجائے اور اس میں پھلوں کو پکنے تک درختوں پر چھوڑنے کی شرط لگائی جائے تو تعامل الناس کی وجہ سے استحساناً یہ جائز ہے، لیکن اگر پھل بڑھ جانے سے پہلے  بیع ہوجائے اور اس میں یہ شرط لگائی جائے تو تعامل الناس نہ ہونے کی وجہ سے امام محمدؒ کے نزدیک بھی  یہ صورت جائز نہیں۔ تاہم علامہ ابن ہمامؒ کے قول کے مطابق امام محمدؒ کے اس فرق کی وجہ تعامل الناس اور عرفِ عام ہے، لہذا موجودہ دور میں اگر پھل بڑھ جانے سے پہلے فروخت کرنے اور پکنے تک درختوں پر چھوڑنے کا عرف ہو تو استحساناً یہ صورت بھی جائز ہوگی۔

 

وإن شرط تركها على النخيل فسد البيع لأنه شرط لا يقتضيه العقد۔۔۔وكذا إذا تناهى عظمهاعند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله لما قلنا واستحسنه محمد رحمه الله للعادة بخلاف ما إذا لم يتناه عظمها لأنه شرط فيه الجزء المعدوم وهو الذي يزيد لمعنى من الأرض أو الشجر۔(الهداية، كتاب البيوع، ج:5،ص:24)

وجه قول محمد فى المتناهى الاستحسان بالتعامل لأنهم تعارفوا التعامل كذلك فيما تناهى عظمه فهو شرط يقتضيه العقد۔۔۔ولا يخفى أن الوجه لا يتم فى الفرق لمحمد إلا بادعاء عدم العرف فيما لم يتناهى عظمه إذ القياس عدم الصحة للشرط الذى لا يقتضيه العقد فى المتناهى وغيره خرج منه المتناهى للتعامل فكون ما لم يتناهى على أصل القياس إنما يكون لعدم التعامل فيه۔(فتح القدير، كتاب البيوع، ج:5، ص:490)

ويظهر من كلام ابن همام أيضا أن العرف إذا جرى ببيع الثمار بعد بدو الصلاح بشرط الترك واشتدت إليه الحاجة كان قياس قول محمدؒ الجواز، وإن لم يتناه عظم الثمار؛لأنه أجاز شرط الترك بعد ما تناهي عظمها للعرف والضروة۔(تكملة فتح الملهم، كتاب البيوع، حكم مايتعامل الناس اليوم، ج:1،ص:395)

فقد اتضح مما ذكرناه وضوح الشمس بحيث لم يبق ريب ولا لبس،أنه لو جرى التعامل المستفيض في بيع الثمار قبل بدو الصلاح بشرط تركها حتى تنضج يصح البيع عند محمدؒ ؛ لأنه صريح كلام الفتح السابق۔۔۔۔ فاشتراط ترك الثمار البارزة حتى تنضج، وإن كان شرطا لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لأحدالمتعاقدين، لكن حيث جرى به العرف الشائع في بلادنا واستفاض بين الخاص والعام فيكون معتبرا، وعليه يكون صحة بيع الثمار البارزة بشرط تركها حتى تنضج اتفاقية۔(شرح المجلة لمحمد خالد الآتاسي، الباب الثاني في بيان المسائل المتعلقة بالبيع، الفصل الثاني في ما يجوز بيعه ومالا يجوز، المادة:206، ج:2، ص:95۔ 96)


فتویٰ نمبر : 2867/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں