بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

سورہ فاتحہ کےتکرار سے سجدہ سہوہ کا حکم


سوال

اگر امام صاحب نے آیات سجدہ پڑھ کرسجدہ کیا اور سجدہ سے اٹھ کر پھر سے سورہ فاتحہ پڑھااس خیال سے کی یہ رکعت کی ابتدا ہے ،تو کیا اس سے نماز پر کوئی اثر پڑھتاہے یا نہیں؟

جواب

          واضح رہے کہ جس طرح نماز میں واجب چھوڑنے اور واجب کی تاخیر سے سجدہ سہولازم ہو جاتا ہے ، اسی طرح واجب کےتکرار سے بھی سجدہ سہو لازم ہو جاتا ہے ،چنانچہ فرائض کی پہلی دو رکعات اور سنن و نوافل کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے ،اگر کوئی سہوا سورہ فاتحہ ایک سے زائد مرتبہ پڑھ لے ،تو تکرار کی وجہ سے  سجدہ سہو واجب ہو گا ،البتہ اگرپہلی دو رکعات میں سورہ فاتحہ اور بقدر واجب قرات کرکے بعد  دوبارہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا ،تو سجدہ سہو واجب نہیں ہو گا ۔

        لہذا صورت مسئولہ میں اگر امام صاحب نے  بقدرواجب قرات کے بعد سجدہ تلاوت کر کے سورہ فاتحہ دوبارہ پڑھ لیا ہو،تو اس صورت میں سجدہ سہو واجب نہیں ۔

 

ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب كذا في الكافي ۔۔۔ولو كررها في الأوليين يجب عليه سجود السهو بخلاف ما لو أعادها بعد السورة أو كررها في الأخريين كذا في التبيين(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة،الباب الثاني عشرفى سجود السهو،ج؛1،ص:1269)

فنقول واجبات الصلاة أنواع منها قراءة الفاتحة ۔۔۔ولو كررها في الأوليين يجب عليه سجود السهو لأنه أخر واجبا وهو السورة بخلاف ما لو أعادها بعد السورة أو كررها في الأخريين(تبيين الحقائق،كتاب الصلاة،باب سجود السهو،ج:1،ص:193)


فتویٰ نمبر : 8873/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں