بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نسبی بہن کے رضاعی بھائی سے نکاح


سوال

 ایک عورت نے سائرہ نامی  لڑکی کو دودھ پلایا ،اور اب اس کی  چھوٹی بہن یعنی سائرہ کی چھوٹی بہن سعدیہ  کا   نکاح اپنے بیٹے (جو کہ سائرہ کا رضاعی بھائی ہے ) فیض اللہ کے ساتھ کرانا چاہتی ہے ،تو کیا شرعا یہ درست ہے ؟

جواب

           شرعی نقطہ نظر سے دودھ پینے والے بچے یا بچی  کے لیے دودھ پلانے والی  عورت اور اس کے اصول و فروع سے نکاح جائز نہیں ،اور  یہ حرمت اس دودھ پینے والے کے ساتھ خاص ہے ، اس کے دوسرے بہن بھائیوں کے لیے اس مرضعہ اور اس کے اصول و فروع کےساتھ نکاح  کرنا جائز ہے ۔

         صورت مسئولہ میں  سعدیہ کا اپنی نسبی بہن کےرضاعی بھائی  فیض اللہ  کے ساتھ نکاح جائز ہے ،بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔

 

ولو أرضعت أمه جارية لها أخوة وأخوات كان له أن يتزوج أخوات تلك الجارية لأن التي أرضعتها الأم أخته من الرضاعة ولا سبب بينه وبين أخواتها(المبسوط للسرخسى،باب تفسير لبن الفحل،ج:3،ص:301)


فتویٰ نمبر : 6282/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں