بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بريسزلگانا اور اس كے ساتھ وضواور غسل کا حکم


سوال

 میرے دانتوں کی ترتیب خراب ہےجس کے لیے میں بریسز لگا نا چاہتا ہو اس کا کیا حکم ہے اور اس کے ساتھ وضو اور غسل کا کیا حکم ہے؟

 

جواب

          واضح رہے کہ بدن کے جن ظاہری اعضا کو پانی پہنچانا بلا مشقت ممکن ہو تو غسل میں ان کو پا نی پہنچانا  ضروری ہے اور جن اعضا کوبلا مشقت پا نی پہنچانا ممکن نہ ہو ان تک پانی پہنچانا ضروری نہیں ، چا ہے خلقتاو ہ اعضا ایسے ہوں کہ ان تک پانی پہنچانے میں مشقت ہو یا کسی عارض کی وجہ سے اس تک پانی پہنچانا بغیر  مشقت کے ممکن نہ ہو ۔

         صورت مسئولہ میں دانتوں کی ترتیب کو برابر کر نے کے لیے  ڈینٹل بریسز لگا نے میں کو ئی ممانعت نہیں اور اس کو نکا ل کر دانتو ں کو پا نی پہنچانا  چو نکہ بلامشقت ممکن نہیں اس لئے اس کے ہوتے ہوئے بھی وضو اور غسل درست ہے۔

 

(ويجب) أي يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة كأذن و (سرة وشارب وحاجب و) أثناء (لحية) وشعر رأس ولو متبلدا لما في - {فاطهروا} [المائدة: 6]- من المبالغة۔۔۔۔۔(لا) يجب (غسل ما فيه حرج كعين) وإن اكتحل بكحل نجس (وثقب انضم و) لا (داخل قلفة)  يندب هو الأصح قاله الكمال، وعلله بالحرج فسقط الإشكال. وفي المسعودي إن أمكن فسخ القلفة بلا مشقة يجب وإلا لا.(قوله: كعين) لأن في غسلها من الحرج ما لا يخفى؛ لأنها شحم لا تقبل الماء، وقد كف بصر من تكلف له من الصحابة كابن عمر وابن عباس بحر. ومفاده عدم وجوب غسلها على الأعمى خلافًا للحانوتي حيث بناه على أن العلة أنه يورث العمى، ولهذا نقل أبو السعود عن العلامة سري الدين أن العلة الصحيحة كونه يضر وإن لم يورث العمى، فيسقط حتى عن الأعمى اهـ ۔۔۔۔۔۔ (قوله: وثقب انضم) قال في شرح المنية: وإن انضم الثقب بعد نزع القرط وصار بحال إن مر عليه الماء يدخله وإن غفل لا فلا بد من إمراره و لايتكلف لغير الإمرار من إدخال عود ونحوه فإن الحرج مدفوع. اهـ".(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الطھارۃ، ج:1، ص:152)


فتویٰ نمبر : 4719/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں