بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

نذر کےروزوں کا فدیہ دینے کا حکم


سوال

ایک عورت نے نذر مانی کہ اگر اس کی نرینہ اولاد پیدا ہوئی تو  وہ تا دم حیات ہر سال محرم الحرام  کے اول دس دنوں کے روزے رکھے گی تو کیا مذکورہ قول نذر ہے یا نہیں اور رمضان کے روزوں پر قدرت کے باوجود ان روزوں  سے عذر کر کے فدیہ دے سکتی ہے ؟،نیز جو روزے قضا  ہوئے ہوں اس کی ادائیگی کا کیا طریقہ ہو گا؟

جواب

        واضح رہے کہ جب کوئی شخص کسی کام کو نذر کے ساتھ مشروط کرے تو شرط کے موجود ہونے کے ساتھ نذر کی ادائیگی واجب ہوگی اورلزوم نذر کے لیےفقہائے کرام نے یہ شرط لگائی ہے کہ منذورعبادت مقصود ہ ہو اور اس کی  جنس سے کوئی فرض یا واجب ہو تو ایسی نذر پوری کرنا واجب اور ضروری ہے۔

         صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی عورت نذر مانےکہ اگر میری نرینہ اولادپیدا  ہوجائےتوتادم حیات  محرم الحرام   کے ابتدئی دس دنوں کے روزے رکھوں گی تو نرینہ اولاد پیدا ہو جانے کی صورت میں اس عورت پر یہ نذر پورا  کرنا واجب ہوگا  جب تک روزے رکھنے کی طاقت ہے تب تک  روزہ رکھنا ہی واجب ہے فدیہ دینا جائز نہیں۔ نیز جو  روزے قضا کیے ہیں اس کی قضا کرے گی۔تاہم اگر اس کا ذریعہ معاش ایسا ہو جس میں مشقت ہونے کی بنا پر اس کے لیے نذر کا روزہ رکھنا مشکل ہو یا بیماری یا بڑھاپےکی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے تو ہر روزےکے بدلے ایک روزے کا فدیہ ادا کرے لیکن اگر غربت کی وجہ سے  فدیہ ادا کرنے پر  بھی قادر نہ ہو تو پھر اللہ تعالی سے بخشش مانگتی رہے امید ہے کہ اللہ تعالی اس کو معاف فرمائیں گے۔

 

ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب وهو عبادة مقصودة ووجد الشرط لزم الناذر(الدرالمختار علی الصدر ردالمحتار،کتاب الایمان،ج:5،ص:515)

وقد روي عن محمد رحمه الله تعالى قال إن علق النذر بشرط يريد كونه كقوله إن شفى الله مريضي أو رد غائبي لا يخرج عنه بالكفارة كذا في المبسوط ويلزمه عين ما سمى كذا في فتاوى قاضي خان(الفتاوي الهندية،كتاب الأيمان،الفصل الثاني في الكفارة،ج:2،ص:71)

 ولو نذر صوم شھر بعینه، وافطر یوما منه لزمه قضاءہ، ولا یلزمه الاستقبال۔(الفتاوي التاتارخانية،كتاب الصوم،الفصل الحادى العشرفي النذور،ج:3،ص:435)

إذا نذر أن يصوم كل خميس يأتي عليه فأفطر خميسا واحدا فعليه قضاؤه كذا في المحيط ولو أخر القضاء حتى صار شيخا فانيا أو كان النذر بصيام الأبد فعجز لذلك أو باشتغاله بالمعيشة لكون صناعته شاقة فله أن يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا على ما تقدم وإن لم يقدر على ذلك لعسرته يستغفر الله إنه هو الغفور الرحيم۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصوم،الباب السادس في النذر،ج:1،ص:272)


فتویٰ نمبر : 8870/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں