بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

زندگی ميں اپنی جا ئيدادكسی كوبطور ہبہ دينا


سوال

اگر کسی بندےکی نرینہ اولادنہ ہو،صرف ایک بیٹی ہوتوکیاوہ اپنی جائیداداپنی زندگی میں اپنے بھتیجے  کوجوکہ اس کاداماد بھی ہے بطورہبہ دے سکتا ہےیانہیں؟نیزاسں مذکورہ جائیدادمیں اس کےبھائیوں اوربہنوں کاحق بنتاہےیانہیں؟

جواب

          فقہی نقطۂ نظرسےہرانسان کوزندگی میں اپنی مملوکہ جائیدادمیں ہرقسم کےجائزتصرفات کاحق حاصل ہے،چنانچہ اگرکوئی شخص بحالت صحت و بقائے ہوش وحواس اپنی زندگی میں اپنی تمام جائیدادکسی  کوہبہ کرناچاہےتوشرعااس کےلیے اس کی گنجائش ہے ،نیزہبہ قبضہ سے تام ہوتاہے،لہذاجب تک موہوب لہ ،موہوبہ چیزپرواہب کی اجازت سےاس کی زندگی میں قبضہ نہ کرے،اس وقت تک موہوبہ چیزموہوب لہ کی ملکیت متصور نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ کےمطابق اگرکسی شخص کی نرینہ اولادنہ ہواوروہ اپنی زندگی میں اپنی تمام جائیداد اپنے بھتیجے کوہبہ  کےطور پر دینا چاہتاہو تواس کےلیےشرعااس کی گنجائش ہے۔

جہاں تک اس مذکورہ جائیدادمیں اس کےبھائیوں اوربہنوں کےحق کامسئلہ ہےتواگریہ جائیداداس کی ذاتی ملکیت ہوتو اس کی زندگی میں ان کااس کی جائیداد میں شرعا کوئی حق نہیں بنتا،البتہ اس کی وفات کےبعداگراس کی نرینہ اولادنہ ہوتو بھائیوں اوربہنوں میں سےجوزندہ ہوں گےوہ  اپنےشرعی حصص کےبقدر اس کی جائیدادمیں حق دارہوں  گے۔

          ومن أراد التصدق بماله كله وهو يعلم من نفسه حسن التوكل والصبر عن المسألة فله ذلك وإلا فلا يجوز.   (ردالمحتارعلى الدرالمختار،  کتاب الزکاۃ، باب المصرف، مطلب:الأفضل على أن ينوي بالصدقة جميع المؤمنين والمؤمنات، ج:3، ص:308، دارالكتب العلمية)

ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض....و أن يكون مملوكا.    (الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب الأول، ج:4، ص:374، دارالفكر)

وأما بيان الوقت الذي يجري فيه الإرث فنقول هذا فصل اختلف المشايخ فيه قال مشايخ العراق الإرث يثبت في آخر جزء من أجزاء حياة المورث وقال مشايخ بلخ الإرث يثبت بعد موت المورث.(البحرالرائق، كتاب الفرائض، ج:9، ص:364، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 4717/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں