بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

کھدائی کے دوران قیمتی پتھر یا خزانہ ملنے کا حکم


سوال

 ایک شخص زمین کھود رہا تھا کہ اسی اثنا اس کو ایک قیمتی پتھر یا کوئی خزانہ ملا۔ تو اب سوال یہ ہے کہ یہ زمین اس کی اپنی نہ ہو تو اس صورت میں یہ کس کا ہو گا؟ اور اگر یہ زمین اس کی اپنی ہو تو اس صورت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

         شریعت مطہرہ کی رو سے  ایسی تمام جامد معدنیات جن کو ڈھلا نہ جا سکتا ہو ، اس میں خمس نہیں ہے۔ اور جس شخص کو ملے وہی اس کا مالک ہو گا چاہے زمین ایسی ہو جس کا کوئی مالک ہو یا سرے سےاس زمین کا  مالک ہی نہ ہو۔ اسی طرح اگر کوئی شخص  کسی  زمین میں  خزانہ پا لے،تو یہ خزانہ مالک ِ زمین کا ہو گا ، لیکن اگر زمین ایسی ہے جس کا کوئی مالک نہیں تو اس صورت میں یہ خزانہ واجد ( پانے والے) کا ہو گا، البتہ خزانہ ملنے کی صورت میں بہر صورت خمس ادا کرنا واجب ہو گا۔

       صورت مسؤلہ کے مطابق اگر پائی جانے والی چیزقیمتی  پتھر ہے تو وہ پانے والے  کا ہے، اور اس میں خمس نہیں۔ اور اگر پائی جانے والی چیز خزانہ ہے تو اس صورت میں  خزانہ زمین کے مالک کا ہو گا، اور اس میں خمس بھی واجب ہے۔ واللہ تعالی اعلم۔

 

 فاعلم أن المستخرج من المعدن ثلاثة أنواع جامد يذوب وينطبع كالنقدين والحديد وما ذكره المصنف معه وجامد لا ينطبع كالجص والنورة والكحل والزرنيخ وسائر الأحجار كالياقوت والملح وما ليس بجامد كالماء والقير والنفط ولا يجب الخمس إلا في النوع الأول۔(فتح القدير، باب في المعادن والركاز،فصل في العروض،ج2، ص233)

قلت: أرأيت معدن الذهب والفضة والنحاس والرصاص والحديد إذا عمل فيه المسلم والذمي والعبد والمكاتب والمدبر وأم الولد والمرأة فأصابوا ركازاً؟ قال: يؤخذ منهم خمس ما أصابوا ولهم أربعة أخماس. قال محمد: حدثنا أبو حنيفة عن حماد عن إبراهيم عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: "العَجْمَاء جُبَار، والقليب جُبَار، والمعدن جُبَار، وفي الركاز الخمس".(کتاب الأصل للشیبانی،باب الذهب والفضة والركازوالمعدن والرصاص والنحاس والحديد والجوهر وغيره، ج2،ص114)

وليس في الفيروزج الذي يوجد في الجبال خمس لقوله عليه الصلاة والسلام لا خمس في الحجر۔۔۔۔۔متاع وجد ركازا فهو للذي وجده وفيه الخمس معناه إذا وجد في أرض لا مالك لها۔( الهداية، كتاب الزكوة، فصل في العروض، ج4،ص56،57)


فتویٰ نمبر : 4715/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں