بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیماری کی وجہ سے فوت شدہ نمازوں کا حکم


سوال

میرے مرحوم والدصاحب،تمام ضروریات کےلیے محتاجی کی حالت میں  تقریباً سوا چھ سال بستر علالت پر پڑے رہے، اس دوران انتہائی ناگزیر وجوہات کی بناپر وضوکروانا یا قبلہ رخ ہونا ممکن نہیں تھا، آخری تین سال مرحوم کا پیٹ جاری رہنے کی وجہ سے کپڑے ہر وقت نجس رہتے تھے، مرحوم ہوش اور بے ہوشی کی ملی جلی کیفیت میں تیمم کرتے کبھی وقت کے اندر اور کبھی وقت کے گزرجانے کے بعد ادھوری نماز اور کبھی پوری نماز پڑھتے، تو اس عرصہ کی نمازوں کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب

             واضح رہے کہ نماز ایک اہم ترین عبادت ہے، اس لیے جب بندہ اس کے پڑھنے پر قدرت رکھتا ہو تو کسی بھی حال میں بغیر ادائیگی کے ساقط نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص کھڑے ہوکر نماز نہیں پڑھ سکتاہو  تو بیٹھ کر پڑھے، اگر بیٹھ کرپڑھنے پر بھی قدرت نہ رکھتا ہو  تو لیٹ کر سر کے اشارے سے نماز پڑھے، تاہم اگر لیٹ کر اشارے  پر بھی قادر نہ ہو تو اگر ایسے شخص پر اس حالت میں قضا شدہ نمازوں کی تعداد پانچ سے زیادہ ہو گئی ہو تو ایسے شخص سے فریضہ ساقط ہوگا، اور اگر پانچ نمازوں کا وقت گزرجانے سے پہلے پہلے سر کے اشارے پر نماز پڑھنے کی قدرت حاصل ہوجائے توان نمازوں کی قضا واجب ہے۔

              صورت مسئولہ کے مطابق اگر مذکورہ شخص کی حالت واقعی ایسی تھی کہ وہ سر کے اشارے سے بھی نماز پڑھنے کی قدرت نہیں رکھتاتھاتو جتنے ایام وہ اس حالت میں رہاہو تو  ان ایام کے بقدر فریضہ ساقط ہے ، اور اگر اس شخص کی حالت ایسی تھی کہ وہ سر کے اشارے سے نمازپڑھنے کی قدرت رکھتاتھا تو اس حالت میں اس شخص پر جتنے ایام گزرے ہوں  جن میں اس نے نماز ادا نہ کی ہو، تو اگر اس نے فدیہ دینے کی وصیت کی ہو تو ان ایام کی نمازوں کے بقدر فدیہ ادا کرنا لازم ہے، اور گر وصیت نہ کی ہوتو ورثا اس کی طرف سے استحساناً فدیہ ادا کر سکتے ہیں البتہ ان پر لازم نہیں۔

 

وإذا عجز المريض عن الإيماء بالرأس في ظاهر الرواية يسقط عنه فرض الصلاة ولا يعتبر الإيماء بالعينين والحاجبين ثم إذا خف مرضه هل يلزمه القضاء ؟اختلفوا فيه قال بعضهم : إن زاد عجزه على يوم وليلة لا يلزمه القضاء وإن كان دون ذلك يلزمه كما في الإغماء وهو الأصح هكذا في فتاوى قاضي خان والفتوى عليه كذا في الظهيرية وإن مات من ذلك المرض لا شيء عليه ولا يلزمه فدية۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة، الباب الرابع عشر في صلوة المريض، ج:1، ص:183)

إذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة فأوصى بأن تعطى كفارة صلواته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع ولصوم يوم نصف صاع ... وإن لم يوص لورثته وتبرع بعض الورثة يجوز ويدفع عن كل صلاة۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة، الباب الرابع عشر في صلوة المريض، ج:1، ص:183)


فتویٰ نمبر : 8874/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں