بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

موہوبہ پراپرٹی میں دیگر ورثا کا دعوی کرنا


سوال

ميں بی بی حقانیہ ہوں، میرے والد کا نام گلزار احد تھا،میری والدہ کا نام بی بی الہامیہ تھا۔میرے والد اور میری والدہ میں نارضگی ہوئی جس کی وجہ پراپرٹی ہی تھی،کیونکہ وہ جوا کرتا تھا،میری والدہ نے مجھے سخت محنت اور مشقت سے پالا تھا۔میری والدہ کا ایک بھائی تھا جس کا نام مغفوراللہ تھااس کا بیٹا تھا جس کا نام کفایت اللہ تھا۔وہ دونوں کافی عرصہ پہلے وفات پاچکے ہیں۔کفایت اللہ کے دو بیٹے ہیں یاسر اور ناصر،اور دو بیٹیا ں ہیں ۔ میری والدہ کو انہوں نے بہت تنگ کیا تو وہ میرے پاس ٹیکسلا آکر رہنے لگی۔ یہ ان کو کہتے کہ ہمارا گھر خالی کرو ہم آپ کو نہیں رکھ سکتے۔ میری والدہ نے اپنی  پراپرٹی شیئر لاہور  تحصیل آفس سےلے لی اور اپنی زندگی میں یہ شیئر میرے نام تملیک  انتقال کردیے ڈاکومنٹس ہمارے پاس موجود ہیں۔ یہ انتقال 1998 میں ہوا۔ اب اس کے بیٹے یاسر اور ناصر کہتے ہیں کہ انہوں نے کورٹ میں کیس کیا ہے کہ آپ کی پراپرٹی میں ہمارے شیئر ہیں، حالانکہ ان کے پاس اپنی پراپرٹی ہے۔ کیاشرعاًمیری پراپرٹی میں ان کے شیئر بنتے ہیں؟

جواب

          شریعتِ مطہرہ کی  رو سے ہر شخص کو اپنے مال و جائیداد میں ہر قسم کے جائز تصرف کا حق حاصل ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص زندگی میں بحالتِ صحت اور بقائے ہوش وحواس اپنا مملوکہ مال و جائیداد کسی کو ہبہ کر کے قبضہ دے تو موہوب لہ کا اس موہوبہ چیز پر قبضہ کرنے سے ہبہ تام ہوجاتا  ہےاور وہ چیز موہوب لہ کی ملکیت شمار ہوگی اور واہب کی وفات کے بعد اس موہوبہ چیز میں میراث جاری نہ ہوگی۔

            صورتِ  مسئولہ میں اگر واقعی مسماۃ بی بی الہامیہ نے بحالتِ صحت اور بقائے ہوش وحواس  زندگی میں اپنی مملوکہ جائیداد اپنی بیٹی(مسماۃبی بی حقانیہ) کوہبہ کر کے قبضہ بھی دیا ہو تو ہبہ تام ہونے کی وجہ سے مذکورہ  جائیداد بی بی حقانیہ کی ملکیت شمار ہوگی اور کسی اور کو  اس میں ملکیت کا دعوی  کرنے کا حق حاصل نہیں،کیونکہ دیگر ورثا مرحومہ کی جائیداد میں اس وقت دعوی کرسکتے ہیں اگر مرتے وقت مرحومہ کی ملکیت ہو۔جب مرتے وقت مرحومہ کی ملکیت میں کوئی جائیداد غیر منقولہ نہ تھی بلکہ اس نے زندگی میں بیٹی کے نام انتقال کرکے قبضہ دیا تھا تو پھر ورثا کے لیے کوئی ترکہ باقی نہیں رہتا جس کا وہ دعوی کریں۔

 

وتنعقد الهبة بالإيجاب والقبول وتتم بالقبض الكامل؛ لأنها من التبرعات، والتبرع لايتم إلا بالقبض۔(شرح المجلة لسليم رستم باز، مادة:737، ص:462)


فتویٰ نمبر : 4170/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں