بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
"مسجد کبیر"کی تحدید رقبہ کے اعتبار سے
سوال
نمازیوں کےسامنےگزرنےکی جوحدفقہاےکرام بیان کرتےہیں کہ مسجدصغیرمیں نمازی کےسامنےگزرناجائزنہیں،جبکہ مسجدکبیر میں تین صف چھوڑکرگزرنےکی گنجائش ہے۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ مسجدکبیرکااطلاق کس مسجدپرہوگا؟یعنی مسجدکےکبیراور صغیر ہونےمیں اعتبارحدوداربعہ کی ہےیانمازیوں کی تعدادکی؟اورجومسجد ہوتوچھوٹی ،لیکن اس میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہوتوایسی مسجد کو مسجدکبیرکہاجاسکتاہےیانہیں؟
جواب
حدیث شریف میں نمازی کےآگےسےگزرنےوالےکےمتعلق سخت وعیدآئی ہے، حضورﷺنےارشادفرمایاکہ "نمازی کےآگےسےگزرنےوالےکواگراپنےاس فعل کی گناہ معلوم ہوجائےتووہ نمازی كےسامنےسےگذرنےکی بجائے چالیس سال تک کھڑارہناپسند كرےگا"فقہاےکرام نےاس حدیث کوچھوٹی مسجدیاگھرمیں نمازپڑھنےوالےکےسامنےسے گزرنے پر محمول کیاہے،بڑی مسجدیاصحرامیں نمازپڑھنےوالےکےسامنے اتنے فاصلےسےگزرنےکی گنجائش ہےکہ اگرنمازی سجدہ کی جگہ پرنگاہ رکھےتوگزرنےوالااس کونظرنہ آئےاوریہ تقریباسجدہ کی جگہ سےدوصفوں کا فاصلہ ہوتاہے۔
صورت مسئولہ کےمطابق "مسجدکبیر"کی جوتحدیدفقہاےکرام نےفرمائی ہےوہ رقبہ کےاعتبارسےہےنہ کہ نمازیوں کی تعدادکی کثرت اور قلت کےاعتبارسے،چنانچہ جس مسجدکارقبہ طولا(لمبائی میں) چالیس ہاتھ(جس کی مقدارانگریزی گزکےحساب سےتقریبابیس /20گز یعنی ساٹھ /60فٹ بنتی ہے)سے کم ہوتووہ" چھوٹی مسجد"کہلائےگی ،اگرچہ اس میں نمازیوں کی تعدادکثیرکیوں نہ ہو،البتہ عرضا(چوڑائی میں)مذکورہ مقدارکاہوناضروری نہیں ،کیونکہ مقصودیہ ہےکہ نمازى کےسامنےاتنےفاصلےسےگزرے،جس سےاس کےخشوع وخضوع میں خلل واقع نہ ہواورخلل کےواقع ہونےیانہ ہونےمیں مدار،مقدارطول کاہے نہ کےعرض کا،اس کی طرف علامہ شامی نے اس عبارت ميں اشارہ فرمایاہےکہ "جعل جمیع مابین یدي المصلي إلى حائط القبلة مکانا واحدا"،چنانچہ جو مسجد طولا چالیس ہاتھ سے کم رقبےوالی ہووہ "چھوٹی مسجد"کہلائےگی، اوراس سےزیادہ رقبےوالی مسجد"مسجدکبیر"کہلائےگی۔
فقال أبو جهيم: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه، لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه» قال أبو النضر: لا أدري، أقال أربعين يوما، أو شهرا، أو سنة.(أخرجه البخاري في صحيحه، كتاب الصلاة، باب إثم الماربين يدي المصلي، رقم الحديث:510، ج:1، ص:184، الطاف ايندسنزكراتشي)
(قوله ومسجد صغير) هو أقل من ستين ذراعا، وقيل من أربعين، وهو المختار كما أشار إليه في الجواهر قهستاني.(قوله فإنه كبقعة واحدة) أي من حيث إنه لم يجعل الفاصل فيه بقدر صفين مانعا من الاقتداء تنزيلا له منزلة مكان واحد، بخلاف المسجد الكبير فإنه جعل فيه مانعا فكذا هنا يجعل جميع ما بين يدي المصلي إلى حائط القبلة مكانا واحدا، بخلاف المسجد الكبير والصحراء فإنه لو جعل كذلك لزم الحرج على المارة، فاقتصر على موضع السجود. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب مايفسد الصلاة ومايكره فيها، مطلب:إذاقرأ قوله – تعالی جدك -...ج:2، ص:398، دارالكتب العلمية)
ولم يذكر في الكتاب قدر المرور، واختلف المشايخ فيه قال بعضهم: قدر موضع السجود، وقال بعضهم: مقدار الصفين، وقال بعضهم: قدر ما يقع بصره على المار لو صلى بخشوع، وفيما وراء ذلك لا يكره و هو الأصح. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الصلاة، باب مايستحب ويكره فيها، ج:2،ص:83، دارالكتب العلمية)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 245
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 575
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 411
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں