بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

ٹماٹر ،پیاز وغیرہ بطورِ قرض دینا


سوال

 آج کل لوگ ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے سے بوقتِ ضرورت ٹماٹر پیاز وغیرہ بطورِ قرض لیتے ہیں اور پھر بعد میں واپس کرتے ہیں ،کیا یہ شرعاً جائز ہے؟

جواب

         واضح رہے کہ شریعت میں ان اشیا کا بطورِ قرض لینا جائز ہے جن کا مثل موجود ہو ،چنانچہ اگر ایک آدمی کسی سے قرض کے طور پر کوئی چیز لے کر اپنے استعمال میں لائے اور بعد میں اسی جنس سے اسی مقدار میں واپس کرے تو یہ جائز ہے ۔

            صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر ایک گھر والے ضرورت پڑنے پر دوسرے گھر والوں سے پیاز ،ٹماٹر وغیرہ بطورِ قرض لیتے ہوں اور بعد میں اتنی ہی مقدار میں واپس کردیتے ہوں ،تو یہ قرض کا معاملہ ہے جو شرعاً جائز ہے ،بشرطیکہ واپس کرتے وقت کسی قسم کی کمی بیشی کی شرط نہ لگائی گئی ہو  ورنہ سود شمار ہوکر ناجائز رہے گا ،نیز قرض دیتے وقت ان اشیا کو وزن کرکے دیا جائے،تاکہ اس کی مقدار معلوم ہو اور اسی مقدار سے پھر واپسی بھی کی جائے، البتہ اگر واپسی کے وقت کوئی شخص اپنی رضا و رغبت سے زیادہ مقدار میں واپس کرنا چاہے ،جبکہ قرض  دیتے وقت زیادتی کی شرط نہ لگائی گئی ہو ،تو یہ جائز ہے۔

 

ويجوز القرض فيما هو من ذوات الأمثال كالمكيل والموزون والعددي المتقارب كالبيض ولا يجوز فيما ليس من ذوات الأمثال كالحيوان والثياب۔(الفتاوى الهندية ، كتاب البيوع ، الباب التاسع عشر في القرض والإستقراض ، ج: 3 ص: 190)

(هوعقد مخصوص يرد على دفع مال مثلي لآخر ليرد مثله وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره) من القيميات كحيوان وحطب وعقار وكل متفاوت لتعذر رد المثل.(الدرالمختار ، كتاب البيوع ، فصل في القرض ، ج:7 ص: 388)

(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز۔(بدائع الصنائع ، كتاب القرض ، فصل في الشروط ، ج:10 ص: 598)


فتویٰ نمبر : 2863/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں