بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

خلع کے بعد عدت


سوال

خلع کے بعد عدت تین حیض ہے یا ایک؟مجھے اشکال یہ ہے کہ سنن نسائی (حدیث:3497)اور سنن ابی داؤد(حدیث:2229)میں حضوراکرمﷺنے خلع لینے والی عورت کی عدت ایک حیض بتائی ہے،جبکہ فقہاے کرام تین حیض بتاتے ہیں،رہنمائی فرمائیں؟

جواب

           واضح رہے کہ احناف کے ہاں خلع طلاق بائن ہے۔حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ"أن النبيﷺجعل الخلع تطليقة بائنة"(سنن الدار قطنی،رقم:3980)کہ نبیﷺنےخلع کو طلاق بائن قرار دیا ہے،اور طلاق بائن کی صورت میں عدت تین حیض ہے،لہذا خلع کی صورت میں بھی عدت تین حیض ہوگی۔

           سنن نسائی کی روایت "فأمررسولﷺأن تربص حيضة واحدة"(رقم:3497)اور سنن ابی داؤدکی روایت"فجعل النبي ﷺعدتها حيضة "(رقم:2229)میں جو حیض کا تذکرہ ہے،شراح ِحدیث فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جنس حیض ہے،یعنی کہ خلع کے بعد عدت حیض کے اعتبار سے ہوگا مہینوں کے اعتبار سے وہ مطلقہ ہےاور سنن نسائی کی روایت میں جو "واحدۃ" کا تذکرہ ہےتووہ راوی نے لفظ"حيضة"سےایک حیض سمجھ لیا ہےاورلفظ "واحدة"کی زیادتی کی ہے۔

 

وأجاب عنه بعض العلماء: أن المراد بالحيضة هو الجنس الذي يصدق على القليل والكثير، فالمراد أن العدة بالحيض لا بالأشهر، فلا يدل على وحدة الحيضة، وتعقب بأنه وقع في النسائي التصريح بالوحدة، ويجاب عنه بأن زيادة الوحدة في رواية النسائي مبني على فهم الراوي، بأنه فهم من لفظ الحيضة حيضة واحدة، فرواها كما فهم۔(بذل المجهودفي حل سنن أبي داؤد،كتاب الطلاق،باب في الرجل يقول لامرأته:يا أختي،ج:10،ص:332)

وفي الشرع عبارة عن أخذ المال بإزاء ملك النكاح بلفظ الخلع وشرطه شرط الطلاق وحكمه وقوع الطلاق البائن۔(تبيين الحقائق،باب الخلع،ج:3،ص:182)

قال رحمه الله ( إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق ، وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء ) سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية وهذا إذا طلقها بعد الدخول أما قبله فلا عدة عليها۔(الجوهرة النيّرة،كتاب العدة،ج:2،ص:242)

 


فتویٰ نمبر : 6297/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں