بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 11/08/2026 |
دارالافتاء
متعدد پڑوسیوں کا شفعہ کرنا
سوال
ایک آدمی نے گھر بیچ دیا ہے ، جس کا راستہ سڑک کی طرف ہے اور اس گھر کےسامنے سڑک کے دوسری جانب گھر والا اور اس فرخت شدہ گھر کے دائیں ، بائیں اور پیچھے کی جانب والے شفعہ کا دعوی کرتے ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ یہ گھر بطورِ شفعہ کس کو ملے گا؟ کسی ایک کو ملے گا یا سب کو مشترکہ طور پر ملےگا؟
جواب
شریعتِ مطہرہ کی رو سے جن لوگوں کو حقِ شفعہ حاصل ہے ان کے چند مراتب ہیں۔ سب سے پہلے شفعہ اس شخص کا حق ہے جو نفسِ مبیع میں شریک ہو، اس کے بعد جو حقِ مبیع میں شریک ہو ، یعنی جو مشفوعہ گھر کے ساتھ خاص راستے اور پانی کی گذرگاہ میں شریک ہو ۔ خاص راستے سے مراد ایساراستہ ہےکہ اس راستے والوں کو دوسرے لوگوں کو اس راستے پر گزرنے سے منع کرنے کا حق حاصل ہو۔ تیسرے مرتبے پر جارِ ملاصق(وہ پڑوسی جس کا گھر اس مشفوعہ گھر کے ساتھ متصل ہو)کا حق بنتا ہے ۔ ان تینوں میں سے اگر پہلا حق دار مطالبہ کرتا ہو تو دوسرے اور تیسرے کو حق حاصل نہیں اور اگر پہلا مطالبہ نہ کرےتو دوسرے کا حق بنتا ہے، جب کہ دوسرے کے مطالبہ نہ کرنے کی صورت میں تیسرے کا حق بنتا ہے۔نیز اگر ایک ہی مرتبے کے متعدد شفیع جمع ہوجائے تو سب کو برابر شفعہ کا حق حاصل ہوگا۔
صورتِ مسئولہ میں فروخت شدہ گھراور اس کے سامنے سڑک کی دوسری جانب واقع گھر کے درمیان عام راستہ یعنی سڑک واقع ہے ، ا س لیے وہ جارِ ملاصق نہیں، لہذا اس کو شفعہ کا حق حاصل نہیں ۔جہاں تک اس گھر کے دائیں، بائیں اور پیچھے کی جانب واقع گھروں کا تعلق ہے تو چونکہ وہ جارِ ملاصق کے زمرے میں داخل ہیں ، اس لیے شفعہ کا حق ان تینوں کا بنتا ہےاور تینوں اس گھر میں برابرشفعہ کا حق رکھتے ہیں۔
قال الشفعة واجبة للخليط في نفس المبيع ثم للخليط في حق المبيع كالشرب والطريق ثم للجار أفاد هذا اللفظ ثبوت حق الشفعة لكل واحد من هؤلاء وأفاد الترتيب۔۔۔۔قال وإذا اجتمع الشفعاء فالشفعة بينهم على عدد رؤوسهم ولا يعتبر اختلاف الأملاك۔(الهداية، كتاب الشفعة، ج:4، ص:391۔392، مطبع: مكتبة رحمانية)
وقوله إن كان خاصا يعني الشرب والطريق وإن لم يكن خاصا لا يستحق به الشفعة۔(البحر الرائق، كتاب الشفعة، ج:8،ص:299)
(تجب) له لا عليه (بعد البيع)۔۔۔ ثم۔۔۔(له في حق المبيع) وهو الذي قاسم وبقيت له شركة في حق العقار (كالشرب والطريق خاصين) ثم فسر ذلك بقوله (كشرب نهر) صغير (لا تجري فيه السفن وطريق لا ينفذ) فلو عامين لا شفعة بهما.قال ابن عابدين:والمراد بعدم النفاذ أن يكون بحيث يمنع أهله من أن يستطرقه غيرهم كما في الدر المنتقى۔(الدرالمختار مع ردالمحتار، كتاب الشفعة، ج:9،ص:321۔322)
الثالث أن يكون جارا ملاصقا للعقارالمبيع لافاصل بين ملكه وبين المبيع، إذ لوكان بينهما طريق نافذ فلا شفعة له وإن قربت الأبواب؛لإن الطريق الفارقة تزيل الضرر۔(شرح المجلة لسليم رستم باز، كتاب الشفعة، الباب الثالث في الشفعة، الفصل الأول في مراتب الشفعة، مادة:1008، ص:564)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں