بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

بوسیدہ قرآن کو دفن کرنا


سوال

ہم بوسیدہ قرآن مجید تقریبا پچیس فٹ تک گہرے کنویں کھود کر کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیتے ہیں کچھ دنوں کے بعد انہیں دیمک کھانے لگتی ہے۔تو کیا یہ دیمک کا کھا جانا بے ادبی میں شامل نہیں۔ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

           فقہائےکرام کی تصریحات کے مطابق قرآن کے ناقابل استفادہ اوراق اور نسخے کو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر کسی محفوظ جگہ میں میت کی طرح دفن کردينا چاہئے۔

         لھٰذا صورتِ مسؤلہ کے مطابق بوسیدہ اور ناقابل استفادہ قرآن مجید کو گہراکنواں کھود کر کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر نے سے ذمہ فارغ ہوجائے گا۔ اس کے بعد زمین کے اندر اگر انہیں دیمک لگےتویہ بےادبی میں شامل نہیں ۔ لھٰذا  دفن کرنے والے پر کوئی وبال نہ ہو  گا۔ 

 

قال اللہ تعالی:﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾۔ (البقرۃ:286)

الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء۔وفی رد المحتار:وفی الذخیرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا یحرق بالنار إلیه أشار محمد وبه نأخذ، ولا یکرہ دفنه، وینبغی أن یلف بخرقة طاہرة، ویلحد له لأنه لو شق ودفن یحتاج إلی إہالة التراب علیه، وفی ذلک نوع تحقیر إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه فی موضع طاہر لا تصل إلیه ید محدث ولا غبار، ولا قذر تعظیما لکلام اللہ عز وجل آہ۔ (الدر المختارمع رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة،باب الاستبراء وغیرہ ،ج9، ص605، بيروت)


فتویٰ نمبر : 4721/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں