بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

پیدائشی مختون بچے کا دوبارہ ختنہ کرنا


سوال

 اگر کوئی بچہ ایسا ہو کہ جو پیدائشی مختون ہو تو کیا اس کا دوبارہ ختنہ ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

          واضح رہے کہ ختنہ کرنا ایک مسنون عمل ہےجس میں بچے کے عضو تناسل کے اوپر والے چمڑے کو کاٹ کر حشفہ ظاہر کیا جاتا ہے، لیکن اگر کسی بچے کے حشفہ کے اوپر  زائد چمڑا پیدائشی طور پر نہ ہو تو ڈاکٹر یا ختنہ کرنے والے کو دکھایا جائے، اگر وہ پورا مختون ہو تو دوبارہ اس کا ختنہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

 

"وفي صلاة النوازل الصبي إذا لم يختن ولا يمكن أن يمد جلدته لتقطع إلا بتشديد وحشفته ظاهرة إذا رآه إنسان يراه كأنه ختن ينظر إليه الثقات وأهل البصر من الحجامين فإن قالوا هو على خلاف ما يمكن الاختتان فإنه لا يشدد عليه ويترك كذا في الذخيرة." (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب التاسع عشر في الختان، ج:5، ص،412)


فتویٰ نمبر : 4714/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں