بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

شناختی کارڈ میں والد کی بجائے چچا کا نام لکھوانے والے کی امامت


سوال

اگر ایک محلے کا امام اپنے شناختی کارڈ میں اپنے والد کی بجائے چچا کا نام لکھوا لے، تو اس سے اس کی امامت پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔

جواب

            واضح رہے کہ اپنے والد کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف اپنی نسبت اس طور پر کرنا کہ دوسرا شخص اس کا والد سمجھا جائے،یا اپنے والد کی نفی کر کے دوسرے شخص کو والد کہنا شرعا ممنوع ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس عمل کو جنت حرام ہونے کا سبب قرار دیا گیا ہے ۔ نیز امامت ایک عظیم منصب ہے جس کا مستحق وہ شخص ہے جو متقی، پرہیزگار، اور احکام شرعیہ کا پابند ہو ، اور کسی حکم شرعی کے خلاف عمل پر جہرا اصرار نہ کرتا ہو۔

            لہذا صورت مسئولہ کے مطابق کسی شخص کا شناختی کارڈ میں اپنے والد کی بجائے چچا کا نام لکھوانا ا گر اپنے والد سے نسبت کی نفی کر کے چچا کی طرف اپنی نسبت کرنے کے مقصد سے ہو، تو یہ عمل شرعا حرام ہے، جس کے مرتکب کو مستقل امام بنانا مکروہ ہے۔ تاہم اگر لوگوں کو اس کے والد کے بارے میں علم ہو اور وہ بھی اپنے والد سے نسبت کی نفی نہیں کر رہا ہو بلکہ اپنے والد کو والد اور چچا کو چچا کہتا ہو لیکن بچپن سے اس کے کاغذات اور شناختی کارڈ میں والد کی بجائے چچا کا نام لکھا گیا ہوجس کو ٹھیک کرنے میں مشکلات درپیش ہوں،  تو اس صورت میں اس کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔

 

عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام» (الصحیح للبخاری، کتاب الفرائض، باب من ادعی إلی غیر أبیه، حديث: 6766، ج: 4/ص: 1885).

ويكره إمامة العبد والأعرابي والأعمى والفاسق وولد الزنا والمبتدع. (الاختيارلتعليل المختار، كتاب الصلوة، فصل في صلوة الجماعة، ج: 1/ص: 158)


فتویٰ نمبر : 8850/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں