بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

قرض پر زکوۃ


سوال

ایک شخص نے کسی سے بطور قرض پیسے لئے ہیں، جو کہ ایک سال کے گزرنے کے بعد اس کے پاس نقدی کی صورت میں موجود ہیں، تو کیا اس مدیون پر زکوۃ و قربانی واجب ہوگی؟ نیز دائن جب زکوۃ نکالتا ہے، تو کیا اس دین کی زکوۃ نکالے گا یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص مقروض ہو، تو وہ پہلے اپنے اموال زکوۃ سے قرض کی مقدار کو منہا کرےگا، اگر بقیہ مال نصاب کو پہنچتا ہو، تو سال گزرنے پر اس میں زکوۃ واجب ہوگی،  اور اگر ایام قربانی میں  بھی وہ نصاب موجود ہو، تو اس پر قربانی بھی واجب ہوگی ، اسی طرح اگر کسی صاحب نصاب  شخص کا مال دوسرے  شخص کے پاس بطور قرض موجود ہو، اور وہ مقروض اس کا اقرار بھی کر رہا ہو، اور اس سے ملنے کی امید بھی ہو، تو اس پر سال گزرنے  کی صورت میں قرض خواہ پر زکوۃ واجب ہوگی، البتہ زکوۃ کی ادائیگی قرض وصول  کرنے کے بعد واجب ہوگی، اور جس قرض کے ملنے کی کوئی امید باقی نہ ہو، تو شرعاً اس مال کی زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔

صورت مسئولہ(1) کے مطابق اگر اس مقروض کے پاس قرض کے علاوہ اتنا  سونا، چاندی، نقدی یا مال تجارت موجود ہو، جو نصاب تک پہنچتا ہو، تو اس پر اپنے مال کی زکوۃ واجب ہوگی، اور اگر قربانی کے دنوں میں بھی صاحب نصاب ہو، تو تب قربانی بھی واجب ہوگی۔

صورت مسئولہ (2) کے مطابق اگر قرض کی وصولی یقینی ہو، تو دائن پر زکوۃ واجب ہوگی، لیکن اس کا  ادا کرنا تب واجب ہوگا، جب قرض وصول ہوجائے، البتہ اگر قرض وصول کرنے سے پہلے زکوۃ دے دی گئی ، تو بھی ادائیگی جائز ہوگی۔

ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج ۔ ۔ ۔ (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقود أو المكيل أو الموزون( الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة ، الباب الأول في تفسيرها، ج:1 ، ص:233 ، 234 ، دارالفكر)

ف ( تجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم ( الدرالمختار على صدر ردالمحتار، كتاب الزكوة ، باب زكوة المال ، ج:1 ، ص:236 ، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 8849/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں