بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

بہنوں کو حصہ نہ دینے کی صورت میں میراث کاحکم


سوال

 ہمارے علاقے میں یہ رواج ہے کہ بہنوں کو میراث میں حصہ نہیں دیتے۔ اسی طرح ہمارےدادا اور پر دادا میں سے کسی نے اپنے بہنوں کو میراث میں حصہ نہیں دیا ہے۔ اب ان کا وہ حصہ میرے والد کو میراث میں ملا ہےتو ان کے حصوں کا کیا کیا جائے جب کہ میرے والد کی پھوپیاں فوت ہوئی ہیں ۔ کیا یہ مال ہمارے لیے حلال ہے یا نہیں ؟ اگر حلال نہیں تو اس نقصان کے ازالے کی کیا صورت ہوگی؟

جواب

          شریعتِ مطہرہ نے جس طرح بیٹوں کو میراث میں حصہ دیا ہے اسی طرح بیٹیوں کا حصہ بھی مقرر کیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن﴾(النساء: ۱۱)۔ لہذا  کسی بھائی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بہنوں کو میراث سے محروم کردے۔ نیز میراث میں مورث کے ترکہ میں سے صرف وہ مال تقسیم کیا جائے گا جس کے ساتھ دوسروں کا حق متعلق نہ ہو، کیونکہ جس مال کے ساتھ دوسروں کا حق متعلق ہویا اس کو ناجائز طریقے سےحاصل کیا ہو تو وہ مال تقسیم نہیں کیا جائے گا، بلکہ اگر اس کامالک معلوم ہو تو اصل مالک کو لوٹانا لازم ہےاور اگر مالک معلوم نہ ہوتو اس کو مالک کی طرف سے صدقہ کرنا لازم ہے۔

          صورتِ مسئولہ میں حسبِ بیان جب سائل کے  دادا اور پر دادا نے اپنے بہنوں کو میراث میں حصہ نہیں دیا ہےتو ان کے ساتھ بہنوں کا جتنا حصہ بنتا ہو وہ ان کے لیے حلال نہیں اور ان کے ترکہ میں اس کے بقدرحصہ میں میراث جاری نہیں ہوگی، لہذا سائل کےوالد کو ان کی میراث میں جو حصہ ملا ہےاس میں جتنا حصہ سائل کے دادا یا  پر دادا کی بہنوں کا بنتا ہےوہ اس کے لیے حلال نہیں، اس حصے کوان  کے حقداروں  یا ان کے ورثا کو لوٹانا لازم ہے۔ اس کی صورت یہ ہوگی کہ اصول میں سے جس کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو کہ اس نے بہنوں کو حصہ نہیں دیاہے اور کل ترکہ اور ورثا بھی یقینی طور پر معلوم ہوں تو وہاں سے اصولِ مناسخہ کے مطابق تمام زندہ ورثا کے حصے معلوم کرلیے جائیں پھر یہ معلوم کر لے کہ اگر اپنے حصے میں استحقاق سے زیادہ حصہ ہو تو وہ مستحقین کو لوٹا دے۔

 

 يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق الغير بعينها۔(الدرالمختار على صدرردالمحتار، كتاب الفرائض،ج:10، ص:493، دار الكتب العلمية)

والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه۔(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب في من ورث مالاحراما، ج:7، ص:301)


فتویٰ نمبر : 4162/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں