بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

میکے میں خاتون کا نماز ادا کرنا


سوال

 ایک شخص وزیرستان کا رہائشی ہے، اور اس نے کراچی کی عورت سے شادی کر لی ہے۔اب اس کی بیوی  جب کراچی اپنے والدین کے گھر جائے  گی تو نماز سفر ادا کرے گی    یا حضر۔ اور اس کا خاوند  سسرال کے گھر میں مقیم  شمار ہوگا یا مسافر۔اور حال یہ  کہ دونوں کی نیت پندرہ(15) دن سے کم کی ہے؟

جواب

           وطن اصلی  اس جگہ کو کہتے ہیں ،جہاں انسان پیدا ہوا ہو،اور مستقل طور پر وہاں رہتاہو یااہل وعیال سمیت کسی اورعلاقے منتقل ہو کروہاں مستقل رہائش  اختیار کرے تو وہ اس کا وطن اصلی بن جاتا ہے۔اسی طرح اگر کسی عورت کی شادی کسی ایسی جگہ ہو جائے، جو اس کے والدین کے گھر سے مسافت شرعی کی مقدار میں دور ہو تو شوہر کی تابع ہونے کی وجہ شوہرکا وطن اس کے لیے وطن اصلی شمارہوگا،جبکہ مرد کےلئے محض شادی کی وجہ سے سسرال کا وطن  وطن اصلی نہیں بنتا۔

        لہذا صورت مسؤلہ میں   شادی کے بعد بیوی کا وطن اصلی وزیرستان  متصور ہو گا۔ چنانچہ اگر میاں بیوی کراچی میں پندرہ  دن سے کم کی نیت سے جائیں، تو دونوں وہاں پر مسافر شمار ہوں گے۔

 

وطن أصلي وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها۔۔۔فالوطن الأصلي ينتقض بمثله لا غير۔(بدائع الصنائع، كتاب الصلوة، فصل في بيان مايصربه المسافر مقيما،ج1ص497)

ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر۔(الفتاوی الهنديه،كتاب الصلوة،الباب الخامس عشر في صلوة المسافر، ج1ص199)


فتویٰ نمبر : 8852/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں