بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

دوسرے شخص کو فارمیسی چلانے کے لیے اپنا لائسنس دینا


سوال

 میں نے فارمیسی میں ڈپلومہ کیا ہوا ہے اور حکومت پاکستان کی طرف سے مجھے میڈیکل سٹور کھولنے کی اجازت ہے،لیکن ذاتی مصروفیات کی وجہ سے میں میڈیکل سٹور میں پورا وقت کام نہیں کر سکتا ۔تو میرا ایک ساتھی   

(جسں کے پاس باقاعدہ فارمیسی کی کوئی ڈگری تو نہیں ہے،لیکن دوائیوں میں انکا  تجربہ زیادہ ہے)وہ مجھے کہتا ہے کہ میرے پاس لائسنس نہیں  ہے،لہذا تم مجھے اپنا لائسنس دے دو میں اپنے دکان میں لگاؤں گا،تاکہ میرا دکان حکومت پاکستان کے قانون کے مطابق ہو جائے اور آپ کے پاس دن میں دو،تین گھنٹے فارغ ہوں تو اس ٹائم آپ دکان  میں آیا کرے ،اس کے بدلے  آپ کو تنخواہ ملے گا ۔تو اب معلوم یہ کرنا ہے کہ1۔کیامیرے لئے یہ لائسنس دینا جائز ہے؟2۔کیا میرے لیے اس سے تنخواہ لینا جائز ہے؟3۔اور کیا میری غیر موجودگی میں اس کا میرے لائسنس پر دوائیاں بیچنے  سے میں گنہگار ہوں گا؟

جواب

          واضح رہے کہ اگر کسی بھی شعبے کا لائسنس یا ڈگری جو کسی شخص کو حکومت کی طرف سے جاری کیا جاتا ہےتو وہ اس شخص کے لیے اس شعبے کو اختیار کرنے کا اجازت نامہ ہوتا ہے،کسی اورکے لیے اس لائسنس کو استعمال کرنے کی قانونا اجازت نہیں ہوتی  اور حکومت کی ایسی جائز پابندیاں  جو مفاد عامہ کی مصلحت میں ہوں ان کی پاسداری کرنا شرعا بھی لازم ہوتی ہے اور اس کی خلاف ورزی   جائز نہیں ہوتی ،لہذا میڈیکل سٹور چلانے کے لیے لائسنس کی قانونی شرط چونکہ عوامی مصلحت کی خاطر لگائی گئی ہے،تاکہ کوئی ایسا شخص میڈیکل سٹور نہ چلا سکے جو ادویات  کی پوری پہچان نہ رکھتا ہو،کیونکہ  غیر تربیت یافتہ شخص کے میڈیکل سٹور چلانے کی وجہ سے لوگوں کی صحت اور زندگیوں کو سنگین قسم کے خطرات لاحق ہو  سکتے ہیں،اس لیے میڈیکل سٹور چلانے  کے لیے لائسنس کا اہتمام ضروری ہے۔

          صورت مسئولہ میں1۔کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ کسی کو فارمیسی کھولنے کے لیے صرف لائسنس دیدے،بلکہ اس پر لازم  ہےکہ عملاً اس کی نگرانی بھی کرے۔

2۔اگرلائسنس دینے والا  باقاعدہ ہر روز فارغ وقت میں فارمیسی  میں کام کرتا ہے تو کام کے بدلے تنخواہ لینا اس کے لیےجائز اور درست ہے، لیکن  اگر محض لائسنس کی وجہ سے اس کو تنخواہ دی جاتی ہے تو پھر جائز نہیں،کیونکہ لائسنس  حکومت کی طرف سے ایک اجازت نامہ ہے کوئی مال نہیں جس کو اجارہ پر دیا جاسکے۔

3۔اگر میڈیکل سٹور والا صحیح دوائیاں مناسب ریٹ پرفروخت کرتا ہو تو اس کے لیے اس سے حاصل شدہ نفع  حلال ہے،لہذا لائسنس  دینے والے پر بھی اس حوالے سے کوئی گناہ نہ ہو گا ۔

 

قال اللہ تعالی: ﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾(سورةالمائدة،آيت نمبر:2)

وقال: ﴿وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ﴾(سورة الحج،آيت نمبر:30)

والأجرة انما تكون في مقابلة العمل۔(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب النكاح،مطلب:أنفق على معتدةالغير،ج4،ص305)

تصرف الإمام على الرعية منوط بالمصلحة۔(الأشباه والنظائر لابن نجيم،القاعدة الخامسة،ص62)

وبهذا علم أن أمر القاضي لا ينفذ إلا إذاوافق الشرع۔(شرح الأشباه والنظائر،القاعدة الخامسة،ص333،مكتبه اسلاميه)


فتویٰ نمبر : 2862/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں