بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

نماز جنازہ کے بعد دفن سے پہلے دعا ، تعزیت اور فاتحہ خوانی کرنا


سوال

میت کے پسماندگان سے تعزیت دفن سے پہلے کرنا چاہیے یا دفن کے بعد ؟ نیز ہمارے علاقے میں ایک رسم عام ہے کہ لوگ میت پر نماز جنازہ پڑھنے کے بعد تدفین سے پہلے تعزیت کے لیے دعا کرتے ہیں اور فاتحہ خوانی کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔ کیا یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ تعزیت کا اصل مقصد میت کے پسماندگان کے ساتھ ہمدردی اور غم خواری کا اظہار ہے ۔تعزیت کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ دفن کے بعد کی جائے ، لیکن اگر میت کے پسماندگان کا صدمہ اس قدر زیادہ اور سخت ہو کہ ورثا کو بے چین اور بے قابو کر رکھا ہو تو تعزیت قبل از تدفین بھی کی جاسکتی ہے ،اس لیے کہ تعزیت پسماندگان کو تسلی دینے کا نام ہے۔

          جہاں تک جنازے کے بعد دفن سے پہلےدعا کی بات ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ دعا مانگنا خیر و برکت کا ذریعہ ہے اور احادیث مبارکہ میں مختلف مقامات پر دعائیں منقول ہیں اور دعا مانگنے کی ترغیب بھی آئی ہے ،لہذا ایسی تمام دعاوٗں کا اہتمام کرنا چاہیے جو حضور ﷺ سے ثابت ہیں، تاہم نمازِ جنازہ چونکہ خود دعا ہے اس لیے نمازِ جنازہ کے بعد دعا کی ضرورت نہیں ۔اسی طرح نمازِ جنازہ کے بعد دفن سے پہلے دعا، تعزیت اور فاتحہ خوانی کے التزام سے دفن میں تاخیر لازم آتی ہے ،جبکہ مردے کی نمازِ جنازہ ہوجانے کے بعد بغیر کسی عذر کے تدفین میں تاخیر مکروہ ہے ،اس لیے جنازہ سے فراغت حاصل کرتے ہی فوراً تدفین میں لگنا چاہیے تاکہ تاخیر واقع نہ ہو ،جو بلا عذر موجبِ گناہ ہے۔البتہ اگر صفیں توڑنے کے بعد بغیر کسی التزام کے اس طرح دعا کی جائے کہ اس سے تدفین میں کوئی تاخیر واقع نہ ہو تو یہ ممنوع نہیں۔

وهي بعد الدفن أولى منها قبله وهذا إذا لم ير منهم جزع شديد فإن رئي ذلك قدمت التعزية۔(الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة ، الباب الحادي والعشرون في الجنائز ، الفصل السادس في القبر والدفن ، ج: 1 ص: 168)

(قوله: وهي أربع تكبيرات بثناء بعد الأولى وصلاة على النبي - صلى الله عليه وسلم - بعد الثانية ودعاء بعد الثالثة وتسليمتين بعد الرابعة) وقيد بقوله بعد الثالثة؛ لأنه لا يدعو بعد التسليم كما في الخلاصة ۔(البحر الرائق ، كتاب الجائز ، فصل: السلطان احق بالصلوة ،ج:ص:320)

وفي القنية، ولو جهز الميت صبيحة يوم الجمعة يكره تأخير الصلاة ودفنه ليصلي عليه الجمع العظيم بعد صلاة الجمعة ۔(البحرالرائق ، كتاب الجائز ، فصل: السلطان احق بالصلوة، ج: 2 ص: 235)


فتویٰ نمبر : 4675/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں