بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

توبہ کرنے کے بعد قسم کھانا کہ میں نے گناہ نہیں کیا ہے


سوال

حدیث مبارک میں ہے کہ "التائب من الذنب كمن لا ذنب له"یعنی گناہ گار جب گناہ سے توبہ کرے تو ایسا ہے کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ اگر کوئی شخص عزم مصمم کے ساتھ گناہ سے توبہ کرلےتو کیا اس کے لیے یہ قسم کھانا جائز ہے کہ اس نے فلاں گناہ نہیں کی ہے؟

جواب

           محدثین حضرات کی تشریح کے مطابق توبہ کی فضیلت  میں وارد ہونے والی عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ  کی روایت "التائب من الذنب كمن لا ذنب له" میں تائب کی تشبیہ اس شخص کے ساتھ جس نے کوئی گناہ  نہ کیا ہو ، یہ عدمِ مؤاخذہ میں ہے ۔ یعنی قیامت کے دن سچے دل سے توبہ کرنے والے کا اس گناہ کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہوگا جیسا کہ گناہ نہ کرنے والے کا مؤاخذہ نہیں ہوگا ، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مؤاخذہ نہ ہونے سے اس گناہ کا وقوع ہی غیر مسلم بن جائےاور اس کے فاعل کے لیےاس فعل سےانکار کی گنجائش پیدا ہو جائے۔

            لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی گناہ گار شخص سچے دل سے توبہ کر لے تو گناہ تو معاف ہو جائیں گے، لیکن گناہ کا فعل بہرحال اس سے صادر ہوچکا ہے اس لیے ایسے شخص کے لیے یہ قسم کھانا جائز نہیں کہ میں نے فلاں گناہ نہیں کیا ہے۔

 

وعن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله (التائب من الذنب) أي توبة صحيحة (كمن لا ذنب له) أي في عدم المؤاخذة۔(مرقاة المفاتيح، باب الإستغفار و التوبة، الفصل الثالث، ج:5،ص:196)


فتویٰ نمبر : 4680/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں