بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

آدھے باغ کو فروخت کرکے مشترکہ طور پر اس کے پھل بیچنا


سوال

میرا ایک باغ ہے میں اپنے ایک ساتھی کو آدھا باغ یعنی پھل فروخت کرکے پھر دونوں مشترکہ طور اس مکمل باغ کے پھلوں کو منڈی میں لے جاکر فروخت کرنا چاہتے ہیں اور اس کےنفع و نقصان میں برابر کے حصہ دار ہو،کیا اس طریقے سے کاروبار جائز ہے یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی مملوک چیز کا کوئی معلوم حصہ دوسرے شخص پر فروخت کرے تو اس سے دونوں کے مابین شرکت املاک ثابت ہوجاتی ہے۔

            صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی باغ کا مالک پھلوں کے قابل انتفاع ہونے کےبعد ان کا آدھا حصہ دوسرےشخص کوفروخت کرے توان دونوں کےدرمیان اس باغ کے پھل میں شرکت ملک ثابت ہوجائے گی۔اس کے بعد دونوں کا ان پھلوں کو منڈی میں لے جاکرفروخت کرنا بھی درست ہے،اوراس میں نفع و نقصان میں دونوں برابرہوں گے۔

"الشركة نوعان شركة ملك وهي أن يتملك رجلان شيئا من غير عقد الشركة بينهما،...  وشركة الملك نوعان: شركة جبر، وشركة اختيار... وشركة الاختيار أن يوهب لهما مال أو يملكا مالا باستيلاء أو يخلطا مالهما، كذا في الذخيرة أو يملكا مالا بالشراء أو بالصدقة، كذا في فتاوى قاضي خان أو يوصى لهما فيقبلان،"(الھندیة، کتاب الشترکة، ج:2،  ص:311، دارالفکر)

"وإذا اشترى رجل شيئا، فقال له رجل آخر: أشركني فيه فأشركه فهذا بمنزلة البيع"،(ایضاﹰج وص 313)

(قوله ومن باع ثمرة بدا صلاحها أو لا صح) أي ظهر صلاحها، وإنما صح مطلقا؛ لأنه مال متقوم إما لكونه منتفعا به في الحال أو في المآل.      (البحرالرائق، كتاب البيع، ج:5، ص:506، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 2852/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں