بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

معتدۃ الغیر سے نکاح کا حکم


سوال

زید نے اپنی بیوی کوموبائل فون پر تین طلاقیں دے دیں،عدّت گزرنے کے بعد8جنوری2020ءکو اس خاتون نےحلالہ کیا،اور 8فروری2020ءکوپہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کیا،جب کہ حلالہ اور نکاحِ ثانی کے درمیان صرف ایک مہینے کی مدّت گزری تھی،نیزانہوں نےدوسرے نکاح کے بعد ازدواجی تعلّقات بھی ابھی قائم نہیں کیے ہیں،تو مذکورہ صورت میں زید کا دوبارہ نکاح جائز منعقد ہوا تھایانہیں،اگر جائز نہیں تھا تو اب جواز کا کیا طریقۂ کار ہوگا؟

جواب

             شریعتِ مطہرہ کی رو سےنکاح کےانعقاد کے لیےضروری ہےکہ جس عورت سےنکاح ہورہاہو،وہ کسی کےنکاح یا عدّت  میں نہ ہو،چنانچہ اگر کوئی عورت کسی کے نکاح یا عدّت میں ہوتواس سے نکاح کرنا جائز نہیں۔

             صورتِ مسؤلہ کے مطابق چونکہ یہ عورت دوسرے شوہرکی عدّت میں تھی،اس لیے پہلے شوہر(زید)کا دورانِ عدّت اس عورت سے نکاح جائز نہیں تھا،تاہم جب انہوں نے نکاح کرلیا تو نکاح فاسد منعقد ہوا،جس کا حکم یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں پر فوراً اس نکاحِ فاسد کوختم کرنالازم ہے،جس کے لیے یہ ضروری ہےکہ مرد عورت کو جدا ہونے کے الفاظ ذکر کرے،مثلاًیوں کہےکہ میں نے تجھے  چھوڑ دیا وغیرہ،اس طرح کے الفاظ کہنے سے نکاحِ فاسد ختم ہوجاۓگا،اورسوال کے مطابق اگر واقعتاًاس مردوعورت نےنکاحِ فاسد کے بعد ازدواجی تعلّقات قائم نہ کیےہوں،تو اس متارکت کے بعد عورت پرالگ عدّت لازم نہیں،البتہ حلالہ کے بعد طلاق والی عدّت عورت پوری کرنالازم ہے،اس کے بعد اگر پہلا شوہر(زید)اس عورت سے نکاح کرنا چاہے،تو کرسکتا ہے۔

 

وأما أحكام العدة :فمنها أنه لا يجوز للأجنبي نكاح المعتدة۔۔۔ وأما المطلقة ثلاثا أو بائنا والمتوفى عنها زوجها فلأن النكاح حال قيام العدة قائم من كل وجه لقيام بعض آثاره۔(بدائع الصنائع،کتاب الطّلاق،فصل فی أحکامِ العدّۃ،ج4،ص445)

( و )مبدؤها ( في النكاح الفاسد بعد التفريق )( أو)المتاركةأي ( إظهار العزم )من الزوج (على ترك وطئها )بأن يقول بلسانه تركتك بلا وطء ونحوه ومنه الطلاق.(الدّرالمختار،کتاب الطلاق،باب العدّۃ،ج5،ص205)

على أن كلامه هنا يوهم وجوب العدة في النكاح الفاسدولو قبل الوطء وليس كذلك فإنها لا تجب فيه بالخلوة بل بالوطء في القبل كما مر في باب المهرقوله( نكاحا فاسدا)هي المنكوحة بغير شهود ونكاح امرأة الغير بلا علم بأنها متزوجة ونكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد عنده خلافا لهما.(ردّالمحتار،کتاب الطّلاق،باب العدّۃ،ج2،ص607)


فتویٰ نمبر : 6263/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں