بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

آیت ِکریمہ "وإنه لحب الخير لشديد"سے مال کی شدید محبت کے جواز پر استدلال


سوال

مال کے ساتھ شدید محبت رکھنا مذموم ہے یا اشد؟ سائل نے ایک بزرگ سے سنا ہے کہ اشد محبت مذموم ہےنہ کہ شدید محبت۔اور استدلال اس آیت سے کی:﴿والذين آمنوا أشد حبا لله﴾کہ اشد محبت اللہ کے ساتھ ہونی چاہیے، جب کہ شدید محبت مال کے ساتھ ہونا شرعاً قابلِ اعتراض نہیں، اور استدلال میں یہ آیت پیش کی:﴿وإنه لحب الخير لشديد﴾حالانکہ یہ آیت بھی انسان کے عیوب کے بیان کے تسلسل میں نازل ہوئی ہے۔ برائے مہربانی آپ راہنمائی فرمائیں۔

جواب

             اس میں کوئی شک نہیں کہ مال اسباب کے دائرے میں انسانی ضروریات کا مدار ہےجس کا کسب  نہ صرف شریعت نے جائز قرار دیا ہے بلکہ ضرورت کی حد تک اس کی ترغیب بھی دی ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ایسی شدید  محبت رکھنا  بلاشبہ مذموم ہے،جس سے بندہ  اللہ کی یاد اور احکامات سے غافل ہو جائے یاحلال و حرام کی کوئی پرواہ نہ رکھے ، اس صورت میں  مال ایک وبال اور فتنہ بن جاتا ہے۔ تا ہم اگر ایسی شدت کی صورتِ حال پیدا نہ ہو تو مال کی طرف محض فطری میلان اور محبت باعثِ مذمت نہیں۔

            صورتِ مسئولہ میں سورۃ عادیات کی آیتِ کریمہ﴿وإنه لحب الخير لشديد﴾ مذمت کے سیاق میں نازل ہوئی ہے، چنانچہ اس سے ماقبل آیات میں انسان کی ایک مذموم خصلت(ناشکری)کا تذکرہ ہے کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا ناشکرا ہےاور وہ اپنے اس فعلِ قبیح سے واقف بھی ہےاور پھر اسی پر عطف کرتے ہوئے اس کی دوسری بری خصلت (حبِ مال) کا تذکرہ کیا گیاہے، اور اس کے بعد ﴿أَفَلاَ يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ﴾میں تذکیر بمابعدالموت کے ذریعے ان مذموم خصلتوں سےانسان کو ڈرایا گیاہے۔ جب یہ معلوم ہوا کہ یہ آیتِ کریمہ مال سے شدید محبت پر مذمت کے بیان میں ہےتو پھر اس سے یہ استدلال درست نہیں کہ مال کے ساتھ شدید محبت باعثِ مذمت نہیں۔

 

قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لُعِنَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَلُعِنَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ».

قوله ( لعن عبد الدينار ) أي طرد وأبعد ۔۔۔ وقال الطيبي خص العبد بالذكر ليؤذن بانغماسه في محبة الدنيا وشهواتها كالأسيرالذي لا يجد خلاصا ۔ (تحفة الأحوذی شرح جامع الترمذی، أبواب الزھد، ج:7/ص:38)

ثم في تفسيرها وجوه...وثانيها أن يكون المرادمن الشديدة القوي ويكون المعنى إنه لحب المال وإيثار الدنياوطلبها قوي مطيق وهو لحب عبادة الله وشكر نعمه ضعيف. (التفسیر الکبیر للامام الرازی، سورۃ العادیات، الآیة:9 ج:11/ص:262)


فتویٰ نمبر : 4677/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں