بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

جائے ملازمت میں قصر یا اتمام


سوال

میں ہر ہفتے پیر کے دن  پشاور آتا ہوں اور جمعہ کو ہنگواپنے گھر جاتا ہوں،یہاں پشاور میں میرا اپنا کمرہ ہے،  تو مجھے پشاور میں قصر کرنی ہوگی یا پوری نماز پڑنی ہوگی؟

جواب

        جوشخص شرعی سفر کی نیت سے سفر شروع کرے تو وہ اپنے شہر کی حدود سے نکلنے کے بعد مسافر متصور ہوگا، اور جب تک کسی جگہ پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت نہ کرے مسافر ہی رہے گا۔

          صورت مسئولہ میں ہنگو چونکہ پشاور سے شرعی سفر کی مقدار پر دور ہے،اس لیے جائےملا زمت یعنی پشاور میں جب تک پندرہ دن یا اس سے زیادہ اقامت کی نیت نہ کی ہو، بلکہ ہفتہ وار آنا جاناہو تو پشاور میں مسافر کے حکم میں ہو کر  قصر کرے گا،البتہ اگرایک دفعہ مقیم بن جائے تو پھر ہفتہ وار آنے جانے سے فرق نہیں پڑتا، جب تک ملازمت ہو تو پشاور میں مقیم متصور ہوگا۔

من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدامسيرة ثلاثة ايام ولياليها۔۔۔صلی الفرض الرباعي ركعتين۔۔۔حتی يدخل موضع مقامه أو ينوي إقامة نصف شهر۔(تنويرالأبصارعلی صدرردالمحتار،كتاب الصلوة،باب المسافر،ج2ص605،604،601،599)


فتویٰ نمبر : 8823/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں