بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں بیٹے کو زمین دینا


سوال

ایک بیٹے کو والد صاحب نے اپنی زندگی میں کچھ زمین وغیرہ دی تھی جس کو اس نےوالد کی زندگی میں  قبضہ کر کے فروخت کردیا تھا،اب والد صاحب فوت ہو چکے ہیں، کیا اس زمین کو اس بیٹے کے حصے میں حساب کیا جاسکتا ہے؟

جواب

           واضح رہے کہ والد جو چیز اپنی زندگی میں کسی بیٹے یا بیٹی وغیرہ کو بلاعوض تملیکاً دیتا ہے وہ شرعاً ہبہ کے حکم میں داخل ہوتا ہے، جو ایجاب و قبول کے بعد قبضہ کرنے سے تام ہو جاتا ہے،چنانچہ جو چیز والد اپنی زندگی میں  کسی بیٹے کو تملیکاً دےاور بیٹا اس پر قبضہ کرلے، وہ چیز والد کی ملکیت سے نکل کر بیٹے کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، لہذا والد کی وفات  کے بعداس کو اس کے حصۂ میراث میں حساب نہیں کیا جائے گا ۔

           صورت مسئولہ کے مطابق والد نے  زندگی میں اپنے بیٹے کو جوزمین وغیرہ دی تھی اور بیٹے نے اس پر والد کی زندگی میں ہی قبضہ کرکے فروخت کر دیا تھا،تواب اس کو اس بیٹے کے حصۂ میراث میں حساب نہیں کیا جاسکتا۔

 

 (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل ۔ (الدر المختار علی صدر ردالمحتار، کتاب الہبۃ)

أَمَّا أَصْلُ الْحُكْمِ فَهُوَ ثُبُوتُ الْمِلْكِ لِلْمَوْهُوبِ له في الْمَوْهُوبِ من غَيْرِ عِوَضٍ۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، مطلب مہم فی قول الواقف علی  الفریضۃ الشرعیۃ،۶/۶۶۴)


فتویٰ نمبر : 4672/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں