بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

باغ کی بیع کے وقت غیر متعین درختوں کا استثنا کرنا


سوال

ہم پھل کے باغ کو فروخت کرتے وقت ایک یا دو غیر متعین درخت مستثنی کردیتے ہیں، اس وقت خریدار یہ کہتا ہےکہ پورے باغ میں جن دو درختوں کا انتخاب بعد میں کرنا چاہتے ہیں کرلیں۔ کیا اس طرح عقد اور اس عقد سے دوچار درختوں کا استثنا شرعی لحاظ سے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

         واضح رہے کہ عقد بیع کے شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مبیع اور ثمن دونوں معلوم ہوں، لہذا اگر عقد کرتے وقت ان دونوں میں سے ایک مجہول ہو اور جہالت ایسی ہو جس سے نزاع پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، تو شرعا اس طرح بیع کرنا فاسد ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے " الثنیا " سے منع فرمایا ہے جس کا معنی ہے مبیع سے کسی غیر متعین چیز کا استثنا کرنا۔

            صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص پورا باغ بیچ کر اس سے ایک یا دو غیر متعین درختوں کا استثنا کرے تو مبیع میں جہالت آنے کی وجہ سے یہ بیع شرعا فاسد ہے،کیونکہ یہ جہالت اگر چہ شروع میں نزاع کا سبب نہ ہو لیکن ممکن ہے کہ بعد میں نزاع کا سبب بن جائے ، تاہم اگر معلوم اورمتعین درختوں کا استثنا کیاجائے تو اس طرح بیع شرعا جائز ہوگی۔

" عَنْ جَابِرٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ المُحَاقَلَةِ، وَالمُزَابَنَةِ، وَالمُخَابَرَةِ، وَالثُّنْيَا، إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ»" (سنن الترمذي، ابواب البيوع، باب ماجاء في النهي عن الثنيا، حديث نمبر: 1310)

" فإن كان الذي استثناه معلوما نحو أن يستثني واحدة من الأشجار أو منزلا من المنازل أو موضعا معلوما من الأرض صح بالاتفاق وإن كان مجهولا نحو أن يستثني شيئا غير معلوم لم يصح البيع" ( تحفة الاحوذي، ابواب البيوع، باب ماجاء في النهي عن الثنيا، ج: 4، ص: 426)

" (ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة. فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع" ( بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل فى شروط الصحة، ج: 6، ص: 592)


فتویٰ نمبر : 2851/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں