بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
شریعت کے مطابق میراث تقسیم نہ کر نے کا حکم
سوال
ہمارے والدصاحب وفات پاگئے ہیں ۔ ان کےترکہ کو ہمارےبعض بھائی غیر شرعی طریقے پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ شریعت میں ان کے لیے کیا تعلیم ہے؟ میں شریعت کے مطابق تقسیم کرنا چاہتا ہوں، لیکن بااختیار نہیں ہوں ۔ اگر میں ان کو شریعت کے خلاف تقسیم کرنے سے منع نہ کروں تو کیا میں گناہ گار ہوں گا؟
جواب
اللہ تعالی نے قرآ ن کریم میں مختلف مقامات پر دوسروں کے مال کو ناحق کھانے سے سختی سے منع کیا ہے۔ میت کے انتقال کے بعد اس کے ذمے قرض کی ادائیگی اور بقیہ مال کے تہائی حصے میں وصیت کے نفاذ کے بعد بچنے والا مال اس کے شرعی ورثا کا حق بن کر ان کی ملکیت میں منتقل ہوجاتاہے۔ اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں میراث کے احکام اور ورثا کے حصوں کی تفصیل نہایت وضاحت کےساتھ بیان کی ہے، چنانچہ میراث کو انہی حصوں کےمطابق تقسیم کرنا فرض ہے۔ اگر کوئی وارث اپنے حق سے زیادہ لیتا ہے یا کسی وارث کو محروم کردیا جاتا ہے یا میراث کو دیدہ دانستہ اللہ تعالی کے مقرر کردہ حصوں سے ہٹ کرتقسیم کیا جاتا ہے تو یہ کبیرہ گناہ ہے، جس پر قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ میں وعید سنائی گئی ہے۔ چنانچہ احکامِ میراث بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی نے میراث کو اس کے اصولوں کے مطابق تقسیم کرنے والوں کو خوش خبری اور اس کے خلاف تقسیم کرنے والوں کووعید بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (13) وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ (14)(النساء:13-14) ترجمہ: یہ اللہ تعالی کے مقر کردہ اصول ہیں جو بھی اللہ تعالی اور اس کےرسول کی تابعداری کرے تو اس کو ایسی جنت میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ہمیشہ کے لیے اس میں ہوں گے اور یہی بڑ ی کامیابی ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرکے اس کے حدود سے تجاوز کرے تو اس کو آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ کےلیے رہے گا اور اسکے لیے ذلت آمیز سزا ہوگی۔
دوسری جگہ میراث کے مال کو ناحق کھانے والوں کی مذمت کے طور پر ارشاد فرمایا:﴿وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَمًّا﴾(الفجر:19)ترجمہ: اور میراث کا مال تم سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ اسی طرح دوسروں کے مال کو ناحق کھانے سے منع کر تے ہوئےفرمایا:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ (النساء: 29)ترجمہ:اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال آپس میں نا حق طریقے سے مت کھاؤ۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی دوسروں کے مال کوناحق کھانے والوں کےمتعلق کئی وعیدیں واردہوئی ہیں جن میں سے چند درجہ ذیل ہیں:
1-حضرتِ انس- رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" جس شخص نے اپنے وارث کو میراث سے محروم کیا تو قیامت کے روز اللہ تعالی اس کو اس کے جنت کے حصے سے محروم کر دیں گے"۔
2-حضرت سعید ابن زید-رضی اللہ عنہ- فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جس شخص نے کسی کی زمین سے ظلماً ایک بالشت جگہ بھی لی اس کو قیامت کے دن سات زمینوں سے اس کا طوق پہنایا جائے گا"۔
3-یعلی ابن مرہ- رضی اللہ عنہ- فرماتے ہیں کہ میں نے رسول للہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے کسی کی زمین نا حق دبائی اس پر حشر میں اس زمین کی مٹی لادی جائے گی۔
ان وعیدوں کو سامنے رکھتے ہوئے غیر شرعی تقسیم کرنے والا چونکہ ناجائز امر کا مرتکب ہےاس لیے اپنی استطاعت کے مطابق حکمت و بصیرت کے ساتھ اسے منع کرنا ضروری ہے، لہذاسائل کو چاہئےکہ اپنے بھائیوں کو وعظ کر کے اور وعیدیں سنا کر شرعی تقسیم پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں ۔ امید ہے کہ وہ ان آیات واحادیث کو سننے کے بعد شرعی طریقے پر تقسیم کے لیے آمادہ ہو جائیں گے، لیکن اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو اس کا وبال سائل پر نہیں، البتہ سائل ترکہ میں سے اپنے استحقاق سے زیادہ مال نہ لے اور اگر مل جائے تو وہ ان مستحقین میں بقدرِ حصص تقسیم کرے جن کو میراث سے محروم رکھا گیا ہے۔
عن أنس ابن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم:"من فر من ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة"۔(سنن ابن ماجة، كتاب الوصايا، باب الحيف في الوصية، رقم الحديث:2703، ج:2، ص:902)
عن سعيد بن زيد، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:" من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين"۔(الصحيح لمسلم، باب تحريم الظلم والغصب وغيرها، رقم الحديث:1610، ج:3، ص:1231)
عن يعلى بن مرة الثقفي يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " من أخذ أرضا بغير حق، كلف أن يحمل ترابها إلى المحشر "(مسند الإمام أحمد بن حنبل، حديث يعلى بن مرة الثقفي، رقم الحديث:17108، ج:5، ص:182)
ثم اعلم أنه إذا كان المنكر حراما وجب الزجر عنه وإذا كان مكروهاندب والأمر بالمعروف أيضا تبع لما يؤمر به ---- وشرطهما أن لا يؤدي إلى الفتنة كما علم من الحديث---- فمن وجب عليه وفعله ولم يمتثل المخاطب فلا عتب بعد ذلك عليه لكونه أدى ما عليه وما عليه أن يقبل منه وهو فرض كفاية ومن تمكن منه وتركه بلا عذر أثم ---- ثم إنه إنما يأمر وينهي من كان عالما بما يأمر به وينهي عنه وذلك يختلف باختلاف الشيء فإن كان من الواجبات الظاهرة أو المحرمات المشهورة كالصلاة والصيام والزكاة والزنا والخمر ونحوهما فكل المسلمين عالم بها۔(مرقاة المفاتيح، كتاب الآداب، باب الأمر بالمعروف، الفصل الأول، ج:8، ص:862-863 )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں