بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خرگوش کے بچوں کو اپنی ماں سے جدا کرنا


سوال

خرگوش کا ایک  فارم  ہے  جس میں اعلی نسل کے خرگوش پالے جاتے ہیں۔ اعلی نسل کے خرگوش کو بڑھانے کے لیے ان اعلی خرگوشوں کے جوڑے کے ساتھ کمزور نسل کے جوڑے بھی رکھے جاتے ہیں، جب دونوں نسل کے جوڑے بچے دیتے ہیں تو کمزور نسل کے بچوں کو ضائع کر دیا جاتا ہے مثلا کسی کتے یا بلی وغیرہ کے سامنے ڈال دیا جاتا ہےوہ اس کو کھا لیتے ہیں، جبکہ اعلی نسل والے بچوں کو کمزور نسل کی مادہ خرگوش کے پاس رکھ دیا جاتا ہے تاکہ وہ ان کو پالے، اور اعلی نسل کی مادہ خرگوش جلد دوبارہ بچے دینے کے لیے تیار ہو جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ طریقہ اختیار کرنا جائزہے یا نہیں؟

جواب

           اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی حیوان جب بچہ جن لےتو ایک مدت تک اسے اپنے بچے سے انتہائی شفقت ومحبت ہوتی ہے اور اس کے بچے کو تکلیف وضرر دینے سے یا بچے کو ماں سے جدا کرنے سے اس کو بہت تکلیف ہوتی ہے، اس لیے بلا ضرورت حیوان کو ایسی تکلیف پہنچانے سے احتراز ضروری ہے، تاہم  اگر کسی ضرورت کی وجہ سے جانور کے بچے کو اس سے جدا کیا جائے یا اس کو ذبح کیا جائے، تو شرعا اس کی گنجائش ہے۔

          صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص فکر معاش اور کسب حلال کی ضرورت کے پیش نظر اعلی نسل کے خرگوش کے بچوں کو کمزور نسل کے خرگوشوں کے ساتھ رکھ کر پالے تو شرعا یہ جائز ہے، جب کہ کمزور نسل والے خرگوشوں کے بچوں کے پالنے کا اگر کوئی ممکن طریقہ نہ ہوتو ان کوزندہ کسی درندہ جانور کے سامنے ڈالنے سے بہتر ہے کہ ان کو ذبح کیا جائے اور ذبح کے بعد ان سے کوئی فائدہ حاصل کیا جائے، خواہ خود کھایا جائے یا کسی جانور کو کھلایا جائے۔

"عن عبد الرحمن بن عبد الله، عن أبيه، قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، فانطلق لحاجته فرأينا حمرة معها فرخان فأخذنا فرخيها، فجاءت الحمرة فجعلت تفرش، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «من فجع هذه بولدها؟ ردوا ولدها إليها»" (سنن ابي داؤد، كتاب الجهاد، باب في كراهية حرق العدو بالنار، حديث: 2675)

" (رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا) الْأَمْرُ لِلنَّدْبِ ; لِأَنَّ اصْطِيَادَ فَرْخِ الطَّائِرِ جَائِز" ( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، باب قتل اهل الردة والسعاية بالفساد، ج:6، ص: 2314 )

"فَائِدَةٌ: فِي التَّفْرِيقِ بَيْنَ الْبَهِيمَةِ وَوَلَدِهَا وَجْهَانِ لَا يَصِحُّ لِنَهْيِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ تَعْذِيبِ الْبَهَائِمِ وَيَصِحُّ قِيَاسًا عَلَى الذَّبْحِ وَهُوَ الْأَوْلَى". ( سبل السلام، كتاب البيوع، الباب: التفريق بين الوالدة وولدها، ج: 3، ص: 33)

"وعلى هذا يخرج الجنين إذا خرج بعد ذبح أمه إن خرج حيا فذكي يحل" ( بدائع الصنائع، كتاب الذبائح والصيود، ج:6، ص: 210)


فتویٰ نمبر : 4664/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں