بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 19/10/2026 |
دارالافتاء
سلسل البول كےمریض کے کپڑوں کا حکم
سوال
ایک شخص کو سلسل البول کی بیماری ہے جس کی وجہ سے اس کے کپڑے ناپاک ہوتے ہے، تو کیا وہ ہر نماز کے لیے صاف کپڑے پہنے گا یا دھوئے گا اور یا انہی کپڑوں کے ساتھ نماز ادا کرے گا؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے نماز کی صحت کے لیے کپڑوں اور بدن کا پاک ہو نا ضروری ہے،البتہ معذور کے لیے شریعت میں گنجائش ہے۔لہذاسلسل البول کے مریض کی کیفیت اگر اس طرح ہو کہ کپڑوں یا بدن پر درہم کی مقدار سے زیادہ سیلانِ بول ہو اور نماز سے فارغ ہو نےسے پہلے پہلے پھرکپڑا نا پاک ہو تا ہو تو شرعا اس کے لیے دھونا اور تبدیل کرنا ضروری نہیں، تاہم کپڑے یا بدن دھونے کے بعد اگر اس کو ناپاک ہو نے سے پہلےپہلے فرض نماز ادا کرنا ممکن ہو تو اس صورت میں نجا ست کا دھو نا لازمی ہے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر معذورشخص کے کپڑوں کی صفائی ممکن ہو یعنی کپڑے دھونے یا تبدیل کرنے کے بعدفرض نماز کے دورانیہ میں پاک رہ سکتے ہو ں تو کپڑے دھو لے یا تبدیل کر لے۔لیکن اگر ایسا کر نانا ممکن ہو یعنی نماز کے دوران پھر نجس ہونے کاقوی خدشہ ہوتو ان کپڑوں کے ساتھ بھی نماز ہو جا تی ہے۔
(وصاحب عذر من به سلس) بول۔۔۔(وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوی۔(الدرالمختارعلی صدرردالمحتار،كتاب الطهارة،باب الحيض،ج:1، ص:506)
وإذا كان به جرح سائل وشد عليه خرقة فأصابه الدم أكثر من قدر الدرهم أو أصاب ثوبا فصلى، ولم يغسله إن كان غسله ينجس ثانيا قبل الفراغ جاز أن لا يغسله ۔ (مجمع الانهرفي شرح ملتقی الابحر، كتاب الطهارة،ج:1،ص:57)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 891
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 493
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1191
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں